مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 98
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 98 ہیں ، اُن کے خط کے جواب میں ایک مصرع آخری لکھا تھا پھر چار شعر ہو گئے۔جو مجھے چاہتے تھے چاہ کو پہچانتے تھے ان کی فرقت میں وہ تنویر کہاں سے لاؤں کاغذی عکس بھی ہیں دل پر میرے نقش بھی ہیں بولتی ہستی وہ تصویر کہاں سے لاؤں وہ کہاں پیار وہ آپس میں دلوں کی باتیں آہ اس خواب کی تعبیر کہاں سے لاؤں دل پر مردہ میں باقی نہ رہی زندہ دلی اب میں وہ شوخی تحریر کہاں سے لاؤں اُنہوں نے لکھا تھا عرصہ سے آپ کے خطوط میں وہ بات نہیں رہی ، نہ وہ مزاح کا رنگ نہ چمک نہ شوخی ، نہ وہ مزے کی باتیں ، کیا ہوا؟ کیا بات ہے؟ ان کی تحریمیہ نے اس تبدیلی کی یاد دلا دی اور اس وقت بھائیوں کی یاد میں ، خصوصاً سب سے زیادہ محبت کرنے والے، بہت خیال رکھنے والے حضرت بڑے بھائی صاحب (حضرت مصلح موعود ) کی یاد آئی ، ان کا ہر بات دل کی کرنا، پرانی باتیں سننا اور سنانا یاد آگیا، گومتینوں بھائیوں کی یہی کیفیت تھی ، بہت محبت کی بہت قدر کی ، بہت ہمدردی پیار