مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 96 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 96

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 96 اور حضرت اماں جان نے بھی فرمایا۔اس وقت اور بہت کام ہیں اس وقت اسی طرح کھا لو، تل کر پھر سہی"۔میں سن کر چپکی چلی آئی اور اس کمرہ میں جو اب حضرت اماں جان کا کمرہ کہلاتا ہے کھڑکی کے رخ (اب وہ کھڑکی بند ہو چکی ہے اور وہاں غسل خانہ بن گیا ہے ) ایک پلنگ بچھا تھا، اسی پر پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئی ، دل میں یقین تھا کہ دیکھو میرے ابا آتے ہیں اور ابھی سب ٹھیک ہو جائے گا ، دیکھوں کیسے نہیں تلے جاتے میرے توس ! جلد ہی حضرت صاحب سیر سے تشریف لے آئے ، کمرہ میں داخل ہوئے صرف میری پیٹھ دیکھ کر روٹھنے کا اندازہ کر لیا اور اسی طرح خاموش واپس صحن میں تشریف لے گئے۔باہر جا کر پو چھا ہوگا اور جواب سے تفصیل معلوم ہوئی ہوگی ، میں تھوڑی دیر میں ہی کیا دیکھتی ہوں ، پیارے مقدس ہاتھوں میں سٹول اٹھائے ہوئے آئے اور میرے سامنے لاکر رکھ دیا، پھر باہر گئے اور خود ہی دونوں ہاتھوں میں کشتی اٹھا کر لائے اور سٹول پر میرے آگے رکھ دی۔جس میں میرے حسب منشاء تلے ہوئے تو س اور دودھ کا ایک کپ رکھا تھا اور فرمایا:۔لواب کھاؤ میں ایسی بدتمیز نہ تھی کہ اس کے بعد بھی ” منہ پھولا رہتا، میں نے فوراً کھانا شروع کر دیا۔آج تک جب بھی یہ واقعہ وہ خاموشی سے سٹول سامنے رکھ کر