مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 17
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 17 پڑھانا شروع کیا۔مختلف ورقوں پر پھیکے حروف سے لکھتے اس پر لکھواتے بھی اور پڑھاتے بھی۔اس مجموعہ سے یسر نا القرآن چھاپا گیا تھا۔غرض میں نے ساڑھے چار سال کی عمر میں قرآن شریف ختم بھی کیا اور دہرا بھی لیا تھا۔چھوٹے بھائی صاحب حضرت مرزا شریف احمد جو سکول یا کسی استاد سے پڑھتے تھے ان کا ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔اسی لئے آمین چند ماہ دیر سے ہوئی۔اردو انہوں نے ساتھ ہی پڑھائی تھی۔پھر یہی حساب وغیرہ بھی سکھاتے۔مگر مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہ ہوئی۔فارسی کی بھی ایک دو کتا ہیں پڑھائی تھیں اور ایک دو انگریزی کا قاعدہ اور کتاب۔میں نے ایک دن خود ہی کہا کہ مجھے شعر کہنا بھی سکھا دیں۔انہوں نے کہا جو اس کے وزن مجھے یاد ہیں۔وہ بتا دیتا ہوں ، ایک وزن انہوں نے بتایا فاعلات۔فاعلات۔فاعلات۔میں نے جلدی سے مصرعہ کہہ دیا۔ایک لڑکی جس کا زینب نام تھا بہت خوش ہوئے ، غرض ان سے ہی سلسلہ تعلیم جاری رہا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے پاس بھیجا کہ مجھے ترجمہ قرآن شریف پڑھانا شروع کریں۔پہلے ان کے پاس جا کر ترجمہ قرآن شریف پڑھتی تھی۔پھر پیر جی کے پاس دوسری کتابیں وغیرہ۔