مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 18
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 18 حضرت مولوی عبد الکریم نے بہت توجہ سے پڑھایا۔اور جب وہ بیمار ہوئے تو ان سے پڑھنا مجبور اچھا۔ان کی علالت نے سب گھر کو اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت پریشان کر رکھا تھا۔سخت کرب میں یہ وقت گزرا۔اُن سے میں صرف تین سیپارے اور چند ورق چوتھے سیپارے کے پڑھ سکی۔اُن کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے پاس بھیجا کہ وہ قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا ئیں وہ بھی ہم سے بہت پیار کرنے والے تھے۔بہت پیار اور توجہ سے پڑھاتے۔لفظ لفظ کا ترجمہ وغیرہ سمجھاتے۔تجرید بخاری وغیرہ اور چھوٹے مجموعہ احادیث کے میں نے خود ہی شروع کر دیے۔جو لفظ خاص سمجھ میں نہ آتے وہ حضرت بڑے بھائی ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی) با حضرت مھلے بھائی صاحب سے پوچھ لیا کرتی تھی۔پیر صاحب سے پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری تھا۔مگر جب ان کی اہلیہ بیمار ہوئیں تو ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) نے مجھے کہا ”اب ادھر نہ جانا۔ادھر وہ دارالبرکات میں اس وقت تھے۔- صحن قریب ہے۔صحن میں صالحہ سے مل لیا کرو۔کمروں میں بیمار ہے وہاں نہ جاتا۔اب اردو تمہاری اچھی ہوگئی ہے۔فارسی میں خود پڑھا دیا کروں گا“