محسنات

by Other Authors

Page 184 of 286

محسنات — Page 184

184 تھی ، خاص طور پر عورتوں کی ذاتی آمدنی نہ ہونے کے برابر تھی لیکن احمدیت کی تاریخ شاہد ہے کہ اپنے پیارے امام کی آواز پر جہاں مردوں نے والہانہ لبیک کہا وہاں عورتوں نے بھی دلی جوش سے ہر طرح کی قربانی پیش کر کے اپنے ایمانی جذبہ اور خلوص کا شاندار مظاہرہ کیا۔یہ نقوش جہاں انمٹ ہیں وہاں قابلِ صد افتخار بھی ہیں۔انہی نقوشِ پا پر چلتے چلتے آج احمدی مستورات ایک ایسے مقام پر آ پہنچی ہیں جہاں باقی دنیا کی عورتیں پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔جماعت کی کوئی مالی تحریک ایسی نہیں جس میں خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیا ہو۔مثلاً بیوت الذکر کی تعمیر تبلیغی مشنوں کا قیام، قرآن کریم کی اشاعت، الرقیم پریس، ایم ٹی اے غرض جب بھی ضرورت پڑی خواتین نے اپنی جمع پونجی ، محنت مزدوری کا معاوضہ بشاشت سے اللہ کے حضور پیش کر دیا۔مہمان نوازی کے لئے زیور بیچ دیا: ابتدائی زمانہ میں تو مہمان نوازی کا سب خرچ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود برداشت کرتے تھے اور حضور کی ان قربانیوں میں ہمیں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ برابر کی شریک نظر آتی ہیں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب سے روایت ہے کہ:۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خرچ نہ رہا۔اُن دنوں جلسہ سالانہ کے لئے چندہ جمع ہو کر نہیں جاتا تھا۔حضور اپنے پاس سے ہی صرف فرماتے تھے۔میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے آ کر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سالن نہیں ہے۔فرمایا بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کر لیں۔چنانچہ زیور فروخت یا رہن کر کے میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچا دیا۔“ ( تاریخ لجنہ جلد اوّل صفحہ 8) ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود نے حضرت منشی ظفر احمد صاحب سے فرمایا ایک