محسنات — Page 185
185 تبلیغی اشتہار کے لئے ساٹھ (60) روپے کی ضرورت ہے کیا آپ کی جماعت یہ انتظام کر سکے گی؟ تو آپ نے اثبات میں جواب دیا۔اور کپورتھلہ تشریف لا کر جماعت کے کسی بھی فرد سے ذکر کئے بغیر اپنی بیگم کے زیور بیچ کر 60 روپے کی رقم حاصل کی اور حضور اقدس کی خدمت میں پیش کر دی۔یہ واقعہ جہاں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا اخلاص ظاہر کرتا ہے وہاں اُن کی اہلیہ محترمہ کی مالی قربانی کا بھی شاہد ہے۔عورتوں کو زیور بہت محبوب ہوتا ہے لیکن حضرت مسیح پاک کا یہ بھی ایک روحانی اعجاز تھا کہ خواتین احمدیت مالی قربانی کے اعلیٰ مقام پر فائز نظر آتی ہیں۔احمدیت کے دور اول میں یعنی حضرت مسیح موعود کے زمانے میں صرف چند خواتین اس میدان میں نظر آتی ہیں جن کی سرخیل حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ تھیں۔سلسلہ کی کوئی ایسی مالی تحریک نہیں تھی جس میں حضرت سیدہ اماں جان نے فراخ دلی سے حصہ نہ لیا ہو۔ہر تحریک کی ابتداء آپ کے چندہ سے ہوئی اور وعدہ لکھوانے کے بعد جلد ادائیگی کا اہتمام فرماتیں۔آپ نے اپنی زمین زیورات اور مکان بیچ کر راہ مولیٰ میں پیش کر دئیے۔منارة المسيح۔رۃ المسیح کے لئے دہلی کا ایک مکان بیچ کر ایک ہزار روپے چندہ دیا۔الفضل کے اجراء کے موقع پر زمین فروخت کر کے ایک ہزار روپیہ دیا۔اسی طرح ( بیت ) برلن تعلیم الاسلام کالج، خلافت جوبلی کی تحریک میں پانچ پانچ سو روپے عطا فرمایا۔1935ء میں کوئٹہ کے زلزلہ کے مصیبت زدگان کے لئے دوسو روپے دیئے ( یہ رقوم ایک صدی قبل قابل ذکر حد تک گراں قدر تھیں ) ہر سال جو نہی حضرت مصلح موعود تحریک جدید کے چندہ کا اعلان فرماتے اُس کے معا بعد گذشتہ برس کے اضافے کے ساتھ آپ نقد ادا ئیگی فرماتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سوروپے یا اس سے زائد رقم دینے والوں