محسنات

by Other Authors

Page 210 of 286

محسنات — Page 210

210 خانہ تعمیر ہوا۔سو سالہ جو بلی فنڈ“ کے نام سے حضرت مرزا ناصر احمد خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1973 ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک عالمگیر منصوبہ کا اعلان فرمایا تا کہ جماعت احمد یہ اپنا سو سالہ جشن شایان شان طریقہ سے منا سکے۔حسب معمول اس فنڈ میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین نے بھی جوش خروش سے حصہ لیا اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ ثبات قدم کے ساتھ مالی قربانیوں کے میدان میں مسابقت کی روح لئے ہوئے رواں دواں ہیں۔خدایا تیرا مسیحا کس شان کا تھا: حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تقریر 12 ستمبر 1992ء کو جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر فرمایا:- حضرت فضل عمر اُس زمانے میں ( بیت ) برلن کی تعمیر کی تحریک کے دوران ایک احمدی پٹھان عورت کی قربانی کا ذکر فرماتے ہیں کہتے ہیں ضعیف تھی چلتے وقت قدم سے قدم نہیں ملتا تھا۔لڑکھڑاتے ہوئے چلتی تھی، میرے پاس آئی اور دوروپے میرے ہاتھوں میں تھما دیئے زبان پشتو تھی اُردو اٹک اٹک کر تھوڑا تھوڑا بولتی تھی اتنی غریب عورت تھی کہ جماعت کے وظیفہ پر پل رہی تھی اُس نے اپنی چھنی کو ہاتھ لگا کر دکھایا کہ یہ جماعت کی ہے اپنی قمیض کو ہاتھ میں پکڑ کر بتایا کہ یہ جماعت کی ہے جوتی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ بھی جماعت کی ہے اور جو وظیفہ ملتا تھا اس میں سے جو دوروپے تھے وہ کہتی ہے وہ بھی جماعت ہی کے تھے۔میں نے اپنے لئے اکٹھے بچائے ہوئے تھے اب میں یہ جماعت کے حضور پیش کرتی ہوں کتنا عظیم جذبہ تھا وہ دوروپے جماعت ہی کے وظیفہ سے بچائے ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور اُس دوروپے کی عظیم قیمت ہوگی۔حضرت فضل عمر فرماتے ہیں اُس نے کہا یہ جوتی دفتر کی ہے، میرا قرآن بھی دفتر کا ہے یعنی میرے پاس کچھ بھی نہیں مجھے ہر چیز دفتر سے ملتی ہے فرماتے