محسنات — Page 211
211 ہیں اُس کا ایک ایک لفظ ایک طرف تو میرے دل پر نشتر کا کام کر رہا تھا اور دوسری طرف میرا دل اُس محسن کے احسان کو یاد کر کے جس نے ایک مردہ قوم میں سے زندہ اور سرسبز روحیں پیدا کر دیں شکر و احسان کے جذبات سے لبریز ہورہا تھا اور میرے اندر سے یہ آواز آرہی تھی۔خدایا ! تیرا مسیحا کس شان کا تھا جس نے اُن پٹھانوں کی جو دوسروں کا مال لوٹ لیا کرتے تھے ایسی کا یا پلٹ دی کہ وہ تیرے دین کے لئے اپنے ملک اور اپنے عزیز اور اپنا مال قربان کر دینا ایک نعمت سمجھتے ہیں۔احمدی خواتین کا مالی قربانیوں کا ایک سمندر ہے۔جسے کوزے میں سمونا بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن کام ہے۔حضرت اماں جان سے بات شروع کرتا ہوں حضرت اماں جان نے ہر قسم کے چندوں میں جماعت احمدیہ کی خواتین کے لئے ایسے پاک اور دائی نمونے چھوڑے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دوڑ میں کوئی تیز رفتار مضبوط جوان آگے بڑھ کر رفتار کے معیار مقرر کرتا ہے اور دوسرے ساتھی اگر اس معیار پر پورے اُتریں تو مقابلے میں شامل رہتے ہیں ورنہ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اسی طرح اگر خواتین نیک کاموں میں دوڑیں لگا رہی ہیں تو آپ کو اس دوڑنے والے قافلے کے سر پر اماں جان حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ دکھائی دیتی ہیں یہ واقعہ ہے اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ مالی قربانی کیسے کی جاتی ہے اس کے نمونے حضرت اماں جان نے اُس زمانے میں دکھا دیئے اور اللہ کے فضل سے احمدی خواتین نے پھر کوئی کمی نہیں کی بلکہ مسلسل اسی راہ پر اُسی شان کے ساتھ ، اُسی ولوے اور جذبے کے ساتھ آگے قدم بڑھاتی رہیں۔دوسرا پہلو عورت کی قربانی کا یہ ہے کہ ان کی قربانیاں جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوتی ہیں تو وہ زندہ جاوید بنادی جاتی ہیں۔زندہ جاوید اس طرح نہیں کہ ان کا ذکر چلتا ہے بلکہ اس طرح کہ وہی قربانیاں ہیں جو آئندہ نسلوں میں سرایت