محسنات

by Other Authors

Page 209 of 286

محسنات — Page 209

209 تعلیم یافتہ خواتین زندگی وقف کر کے افریقی ممالک میں خدمت ( دینِ حق ) بجالا رہی ہیں جن میں ٹیچر ز بھی ہیں اور ڈاکٹر ز بھی۔گھانا کے شمالی علاقہ میں بچیوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے 1970ء میں نصرت جہاں اکیڈمی شروع کی گئی۔( تاریخ لجنہ جلد سوم صفحہ 647) 1970ء میں جامعہ نصرت ربوہ کے سائنس بلاک کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا اس بلاک پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ ہوا جس کا نصف لجنہ اماءاللہ نے ادا کیا۔25 دسمبر 1972ء کو لجنہ اماءاللہ کے قیام پر پچاس سال گزرے صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے 1968ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر یہ تحریک پیش کی کہ لجنہ کے پچاس سالہ جشن کے موقع پر لجنہ اماءاللہ کی طرف سے ایک لاکھ روپے کی رقم حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں پیش کی جائے۔علاوہ ازیں ایک وسیع دفتر لجنہ تعمیر کیا جائے نیز لجنہ اماءاللہ کی پچاس سالہ تاریخ لکھی جائے اس تحریک کو تحریک خاص کا نام دیا گیا۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے لجنہ عالمگیر کی طرف سے دو لاکھ روپے کا گراں قدر عطیہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے یہ رقم جدید پریس میں لگانے کا ارشاد فرمایا تھا۔تا کہ اس پریس میں ہمیشہ ہمیش کے لئے قرآن مجید چھپتا رہے اور ثواب لجنہ اماءاللہ کو ملتا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بالا دو لاکھ کی رقم میں سے ایک لاکھ روپیہ لجنہ انگلستان نے پیش کیا۔جلسہ سالانہ کے موقع پر عورتوں کے قیام کے لئے جگہ کی شدید تنگی محسوس ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ”وَسَعُ مَكَانَكُ “ کے پیشِ نظر حضرت خلیفہ اسیح کی منظوری سے حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے 28 جون 1976ء کو اس چندہ کی تحریک (مہمان خانہ مستورات ) بذریعہ الفضل فرمائی اس تحریک میں بھی خواتین نے عظیم قربانی کا مظاہرہ کیا۔لہذا ساڑھے تین لاکھ کی لاگت سے یہ مہمان