محسنات

by Other Authors

Page 189 of 286

محسنات — Page 189

189 تحریک میں پیش پیش رہتی تھیں حتی کے مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ تحریک جدید کے امانت ذاتی کے شعبہ میں بھی اُنہوں نے محض ثواب کی خاطر حصہ لے رکھا تھا اور اسی طرح پرائیوٹ چندوں میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتی تھیں۔یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ سوائے حضرت خلیفتہ المسیح والی باری کے دن جب کہ وہ کچھ تو حضور کے آرام کے خیال سے اور کچھ اس احساس کے ماتحت کہ حضور کو اُن کے گھر کی تنگی کا علم نہ ہوکسی قد راچھا کھانا پکوالیتی تھیں عموماً گھر کا کھانا پینا نہایت درجہ سادہ بلکہ غریبانہ ہوتا تھا۔بایں ہمہ ہمشیرہ مرحومہ بے حد مہمان نواز تھیں اور مہمانوں کے آرام کی خاطر سب کچھ خرچ کر ڈالنے میں دریغ نہیں تھا اور مہمانوں کی خدمت میں حقیقی خوشی پاتی تھیں۔مرحومہ موصیہ تو شروع سے ہی تھیں مگر یہ بات غالبا اکثر لوگوں کو معلوم نہ ہوگی کہ کئی سال سے مرحومہ نے اپنے حصہ وصیت کو دسویں سے بڑھا کر ایک تہائی کر دیا تھا۔ایک تہائی وہ حد ہے جس سے اوپر ( دین حق ) نے کوئی وصیت جائز نہیں رکھی۔۔تابعین ( رفقائے ) احمد جلد سوم صفحہ 214) حضرت اُمّم طاہر مرحومہ کی اعلیٰ صفات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سیدہ مہر آپا فرماتی ہیں:۔یوں تو ہر انسان اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ خدا کی راہ میں دیتا ہی ہے مگر میں نے پھوپھی جان کا رنگ بالکل نرالا دیکھا تھا۔کئی بیواؤں کا خرچ اپنی رگرہ سے مقرر کر رکھا تھا۔کئی قیموں کی تعلیم پر وہ خود خرچ کرتی تھیں مگر اس طرح پر کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔آپ کی طبیعت میں اس قسم کے کارِ خیر کے لئے نمود ہر گز نہ تھی۔انہیں یہ بات قطعا برداشت نہ تھی کہ وہ اپنی اس قسم کی نیکی کو الَم نَشْرَحْ کریں۔اس قسم کے صدقات و خیرات اُن کا روز مرہ کا مشغلہ تھا۔لیکن پھر سال میں ایک ماہ ایسا بھی آتا تھا جس میں وہ اپنا سب کچھ خدا کے لئے دے چھوڑتیں وہ مہینہ رمضان کا مہینہ ہوتا۔اگر قادیان میں ہوتیں تو خود اپنے ہاتھ سے نقدی کی صورت میں