محسنات — Page 163
163 غیروں کا سلوک تھا لیکن اس موقع پر اپنے عزیزوں نے بھی منہ پھیر لیا برسوں کے طے شدہ رشتے توڑ دیئے اور ہمیں نصیحتیں کیں کہ اپنا مذہب چھوڑ دو جس نے سوائے بربادی کے کچھ نہیں دیا۔لیکن ہم نے اُن سب کو چھوڑ دیا اور ہر قدم پر اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ان حالات میں صبر کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔راضی برضا ر ہنے کے لئے اور صبر اختیار کرنے کے لئے بھی اللہ کی مدد کی ضرورت ہے اس لئے ابھی سے ہر آئندہ وقت کے لئے امن کے زمانوں میں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اگر اللہ کسی کو آزمائش میں ڈالنے کا فیصلہ فرمالے تو ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہمارے سر اُس کے حضور میں خم رہیں اور دل ہر حال میں راضی برضا ر ہے اور ہمیں صبر کے اعلیٰ نمونے پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہاں تک کہ خدا کی تقدیر ہمارے حق میں کہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور اللہ تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔پھر حضورا نور رحمہ اللہ تعالیٰ نے مکرمہ نفیسہ سید صاحبہ بنت سید احمد علی صاحب کا واقعہ سنایا کہ وہ کہتی ہیں کہ :- جون 1974ء میں بھرے ہوئے ہجوم اور مولویوں کے جلوس نے بہت تباہی مچائی۔گھروں کو جلایا۔احمدی گھروں پر پتھراؤ کیا اس فساد میں ہم چار بہنیں اور امی جان حیران پریشان چھت پر چڑھیں تو اچا نک جلوس کی ایک ٹولی ہمارے گھر کی طرف بڑھی اور کہنے لگی یہ مرزائیوں کے مربی کا گھر ہے پہلے اسے آگ لگاؤ۔میرے چھوٹے بھائی سید ولی احمد صادق اور میرے ابا جان سید احمد علی صاحب دونوں ہی ( بیت ) میں تھے اور ( بیت ) دشمنوں میں گھری ہوئی تھی وہ دونوں کسی نہ کسی طرح وہاں سے نکلے اور ہم چاروں بہنوں کو ایک قریبی احمدی محمود احمد صاحب امینی کے گھر چھوڑ آئے یہ عشاء کا وقت تھا۔جب ہم چاروں بہنیں امینی