محسنات — Page 162
162 گے۔میرے بیٹے بشیر نے مجھے اور میری بیٹی جمیلہ کو اپنے دوست کے گھر بھجوا دیا۔صبح جلوس نے حملہ کر دیا میرے بیٹے تمام دروازے مقفل کر کے اوپر چلے گئے جہاں پہلے بھی پانچ آدمی موجود تھے ہجوم نے ان پر پتھر برسانے شروع کر دیئے۔بچے چھت پر ادھر اُدھر بھاگتے مگر بچاؤ کی کوئی صورت نہ تھی وہ پچھلی گلی میں اُترے تا کہ وہاں سے باہر نکل جائیں لیکن وہاں بھی ہجوم تھا۔انہوں نے نیچے اُترتے ہی اُن پر حملہ کر دیا اور ڈنڈوں اور پتھروں سے مار مار کر انہیں ( قربان ) کر دیا اور انہیں اینٹوں اور پتھروں کے بڑے بڑے ڈھیروں کے نیچے دبا دیا گیا۔اس موقع پر میرے بیٹوں منیر احمد اور بشیر احمد کے علاوہ سعید احمد ، منظور احمد محمود احمد اور احمد علی بھی (قربان) ہوئے۔سبھی کو ڈنڈے اور پتھر مار مار کر ( قربان ) کیا گیا۔آپ بیان کرتی ہیں کہ اس قیامت کے گذرنے کا جب مجھے علم ہوا تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے لیکن گھر والوں نے رونے بھی نہ دیا کہ تمہارے رونے سے ہماری جان کو خطرہ لاحق ہے۔ہماری حالت نا قابل بیان تھی۔اُس وقت تو مجھے کچھ علم نہ تھا کہ میرے بیٹوں نے کیسے جان دی ہے اور اُن پر کیا گذری ہے بعد میں معلوم ہوا کہ بڑے ظالمانہ اور سفا کا نہ طریق سے اُنہیں مارا گیا۔بڑا کڑا امتحان تھا۔بیٹوں کے لئے رو بھی نہیں سکتی تھی۔دل ودماغ میں غموں کا ایک طوفان تھا۔آنسوزار و قطار بہہ رہے تھے لیکن کچھ کہنے سننے کی اجازت نہ تھی۔آپ بیان کرتی ہیں کہ بعد میں جب حالات بدلے تو اُس گھر میں رہنے کو جی نہیں چاہتا تھا مگر اُس ویرانہ میں رہنا ہماری مجبوری تھی۔پہلے بھی ہم بہت غمزدہ تھے دوسرے اہلِ محلہ نے ہمارا بائیکاٹ کر دیا۔دوکانداروں نے سودا سلف دینا بند کر دیا۔ہم تمام اشیاء بہت دور سے جا کر لاتے تھے۔اہل محلہ ہمیں دیکھ کر رستہ بدل لیتے تھے۔ان حالات سے ہمیں اور بھی اذیت پہنچی لیکن ہم نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔یہ تو ہم سے