محسنات

by Other Authors

Page 15 of 286

محسنات — Page 15

15 لگاوے۔“ صالحات، قانتات میں گنی جاؤ۔اسراف نہ کرو۔اور خاوندوں کے مالوں کو بے جا طور پر خرچ نہ کرو۔خیانت نہ کرو۔چوری نہ کرو۔گلہ نہ کرو۔ایک عورت دوسری عورت یا مرد پر بہتان نہ (کشتی نوح صفحه 107) اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے مسیحائے زماں کو حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ عطا فرمائیں۔جنہوں نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تربیت پا کر یہ فیض آگے خواتین میں جاری کیا۔ابتدائی دور کی خواتین کا تعلق باللہ، قرآن پاک سے محبت، عبادت میں شغف اور انفاق فی سبیل اللہ قابلِ صد رشک ہے۔حضرت مصلح موعود اس پاک تعلیم و تربیت کو نظم وضبط میں لائے۔اللہ کی لونڈیوں کی تنظیم قائم فرمائی۔لجنہ اماء اللہ کی ابتدائی ممبرات چودہ تھیں۔مگر پھر شہر شہر گاؤں گاؤں اور بعد میں ملک ملک میں پھیل گئی اور دینی ودنیاوی تعلیم و تربیت کا عظیم الشان کام کرنے لگی۔حضرت مصلح موعود جب خواتین میں بیداری کی لہر دیکھتے تو اظہار خوشنودی فرماتے :- ”مردوں کے مقابلے میں عورتوں نے قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو روح ہماری عورتوں نے دکھائی ہے اگر وہی روح ہمارے مردوں میں کام کرنے لگ جائے تو ہمارا غلبہ سوسال سے پہلے آ جائے۔اگر مردوں میں بھی وہی دیوانگی اور جنون پیدا ہو جائے جس کا عورتوں نے اس موقع پر مظاہرہ کیا ہے تو ہماری فتح کا دن بہت قریب آجائے۔“ جلسہ جرمنی 1992ء میں خواتین کو خطاب کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ خواتین کی حسن کارکردگی کے متعلق فرماتے ہیں:۔