محسنات — Page 14
14 میدان میں ہر جہت میں خواتین کی مثالیں موجود ہیں۔اپنی جان، مال، وقت اور اولاد کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے والی خواتین احمدیت کو ایسی نسلیں عطا کر رہی ہیں جو زندگی کا سامان ہوا کرتی ہیں۔میدانِ عمل میں کام کرنے والی احمدی خواتین آج بفضل تعالیٰ اس ارشادِ خداوندی کی مصداق نظر آتی ہیں۔اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام: 163) ترجمہ: میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ظہور مہدی علیہ السلام کی تصدیق اور جانثارانہ اطاعت میں خواتین کی سرگرمیاں قابل تحسین ہیں۔ان گنت مثالیں ہیں سعید فطرت خواتین نے نورحق کو پہچانا۔رویاء وشوف سے رہبری ہوئی۔بعض اوقات تو اپنے عزیز مردوں سے سبقت لے گئیں۔یہ خواتین ڈور ڈور سے اپنے سر پرستوں کے ساتھ آتیں۔حضرت اقدس کے گھر پر ہی قیام ہوتا آپ وعظ ونصیحت فرماتے:۔تقوی اختیار کرو۔دُنیا سے اور اس کی زینت سے بہت دل مت لگاؤ۔قومی فخر مت کرو۔کسی عورت سے ٹھٹھا ہنسی مت کرو۔خاوندوں سے وہ تقاضے نہ کرو جو اُن کی حیثیت سے باہر ہیں کوشش کرو کہ تا تم معصوم اور پاکدامن ہونے کی حالت میں قبروں میں داخل ہو۔خدا کے فرائض نماز زکوۃ وغیرہ میں سستی مت کرو۔اپنے خاوندوں کی دل و جان سے مطیع رہو۔بہت سا حصہ اُن کی عزت کا تمہارے ہاتھ میں ہے سو تم اپنی اس ذمہ داری کو ایسی ہی عمدگی سے ادا کرو کہ خدا کے نزدیک