محسنات — Page 106
106 گئیں۔سیکیورٹی والوں نے سید مبشرات کو روک لیا اور بیگم شفیع کو جانے کا اشارہ کیا۔بیگم شفیع نے جانے سے انکار کر دیا۔اماں نے انفارمیشن آفیسر کو جاتے ہوئے دیکھا تو انہیں روک کر کہا آپ کو معلوم ہے کہ مجھے انگریزی نہیں آتی میرا بیٹا میرے ساتھ ترجمانی کے لئے ہوتا ہے۔اگر اس کو اندر جانے کی اجازت نہیں ملے گی تو میں بھی نہیں جاتی۔مسٹر ڈگلس انفارمیشن آفیسر نے اماں کے دعوت نامے پر لکھ دیا۔Permitted with her Translator اور اپنے دستخط کر دیئے۔اس تاریخی تقریب میں ہندوستان کی پہلی عبوری حکومت کے موقع پر منعقد ہونے والی پر یس کا نفرنس میں شریک ہونے والے سب سے چھوٹی عمر کے فرد یعنی 16 سال کے سید مبشرات احمد بیگم شفیع کی شکایت: حضرت مصلح موعود اُس زمانہ قیام دہلی میں مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد مجلس عرفان منعقد فرماتے تھے۔احباب جماعت کثیر تعداد میں اپنے ساتھ غیر از جماعت دوستوں کو بھی لاتے۔ہر قسم کے سوالات کے جوابات نہایت مدلل اور معلومات افزاء دیتے۔جماعت دہلی کے بعض عہد یدار والدہ کے ان مردانہ وار کاموں، پریس کانفرنسوں میں جانے، تصاویر اور خبریں چھپنے پر اعتراض کرتے۔چنانچہ ایک دن کسی احمدی نے اماں کی شکایت کر دی کہ بیگم شفیع مردوں کی کانفرنسوں اور میٹنگوں میں جاتی ہیں۔(حضور کو پہلے ہی علم تھا پھر بھی ) حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا پردہ کر کے جاتی ہیں؟ جواب ملا جی۔کیا چہرے پر نقاب ہوتا ہے؟ جواب ملا جی۔اتفاق سے وہاں دوسرے غیر احمدی مہمانوں میں ایک ہندو اخبار نویس لالہ تا را چند (جو ابا جی مرحوم کے دوست تھے ) بھی بیٹھے تھے اُنہوں نے فوراً کہا حضور نہ صرف چہرے پر نقاب ہوتا ہے بلکہ ہاتھوں میں دستانے اور پاؤں میں موزے بھی