محسنات

by Other Authors

Page 107 of 286

محسنات — Page 107

107 ہوتے ہیں۔اور بات ہمیشہ پر رعب اور باوقار انداز میں کرتی ہیں۔مجال ہے کوئی اُن سے فالتو بات کر جائے۔میں بھی اخبار نویس ہوں اور میٹنگز میں ان کے ساتھ ہی ہوتا ہوں۔حضور نے یہ بات سن کر معترض صاحب کو ذراسخت لہجے میں مخاطب کر کے فرمایا اگر وہ اس طرح باپردہ، باوقار اپنے مرحوم شوہر کے پیشے کو اپنائے ہوئے ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے۔حضور کولتاں کی مصروفیات کا پہلے ہی علم تھا کیونکہ اماں ہمیشہ حضور کو خط لکھ کر اور ملاقات میں بھی تمام صورتحال سے مطلع کرتی رہتی تھیں۔(سوانح بیگم شفیع صفحه 74,71) قیام پاکستان کے بعد آپ نے لاہور سے اپنا اخبار نئے سرے سے جاری کیا اور اپنا دستکاری پر لیس قائم کیا۔1950ء میں ہندو پاکستان میں خیر سگالی کی فضا یدا کرنے کے لئے دونوں طرف کے صحافیوں نے دورے کئے تو بیگم شفیع بھی (اپنے بیٹے کے ساتھ ) اخبار والوں کے اس وفد میں شامل کی گئیں۔جنہوں نے ہندوستان کا دورہ کیا۔پھر 1951 ء تا 1953 ء آپ گورنمنٹ کی طرف سے مغویہ خواتین کی بازیابی کی کمیٹی میں بھی شامل کی گئیں اور ہندوستان کی مس مرد ولا سادہ بائی کے ساتھ آپ کی میٹنگز ہوتیں آپ نے سینکڑوں مغویہ خواتین کو بازیاب کرا کے انہیں بحال کیا۔لجنہ کا ایک مقصد خدمت خلق کے دائرے کو وسیع کرنا ہے اور آپ نے یہ کام نہایت عمدہ طریق پر کیا۔آپ کے سماجی کاموں کو دیکھ کر گورنر پنجاب سردار عبدالربّ نشتر نے قیدی خواتین کی بحالی کمیٹی کا آپ کو ممبر بنایا۔بیگم شفیع نے حصہ لیتے ہوئے قیدی خواتین کے حقوق کی بحالی کے کام میں حکومت کا ہاتھ بٹایا۔1953ء میں پنجاب میں زبر دست سیلاب آیا آپ نے اور آپ کے اخبار نے اس وقت بھی سیلاب سے متاثرہ خاندانوں اور خواتین کے مسائل کو حکومت تک پہنچا کر ان کی امدا د اور بحالی کے