محسنات

by Other Authors

Page 105 of 286

محسنات — Page 105

105 کے ارشاد پر قائد اعظم اور مسلم لیگ کا بھر پورساتھ دے رہی تھی۔مکرمہ محترمہ بیگم شفیع صاحبہ نے بھی اپنے مقدس امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی اور اپنے اخبار کی تمام تر خدمات مسلم لیگ کے لئے وقف کر دیں۔آپ کی تحریر اور تقریر اس قدر موثر تھی کہ انگریزی حکومت نے خواتین کے لئے قائم کردہ کئی مختلف ایڈوائزری کمیٹیوں کا آپ کو ممبر بنایا۔آپ ایک موثر صحافی کی حیثیت سے آزادی برصغیر کے سلسلہ میں ہونے والی ہر پریس کا نفرنس میں بلائی جاتیں خواہ یہ پریس کا نفرنس انگریز سرکار کی شملہ کا نفرنس ہوتی یا مسلم لیگ اور کانگریس کی طلب کردہ ہوتی۔آپ ان کا نفرنسوں میں پاکستان کے موقف اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں اہم سوالات اٹھا تیں۔چنانچہ سر اسٹینفورڈ کرپس نے جب شملہ میں کانفرنس بلائی تو بیگم شفیع صاحبہ نے کچھ ایسے اہم سوالات کئے جن کے تفصیلی جواب سر اسٹیفورڈ کرپس نے خود دیئے جو ڈان‘ دہلی میں شائع ہوئے۔1945ء اور 1946 ء میں آپ کے اخبار نے مسلم لیگ کا بھر پور ساتھ دیا۔قائد اعظم یہ جانتے تھے کہ آپ احمدی خاتون ہیں لہذا عزت سے ہر کانفرنس میں آپ کو قریب بٹھاتے اور آپ کے کام کی تعریف کرتے۔( بحوالہ مصباح اگست د ستمبر 1989 ء صفحه 77-78) مکرمہ سیده نیم سعید صاحبہ جو محترمہ بیگم شفیع صاحبہ کی صاحبزادی ہیں سوانح بیگم شفیع میں تحریر کرتی ہیں :- ستمبر 1946ء میں پہلی عارضی حکومت کا اعلان ہوا جس میں پنڈت جواہر لال نہرو کو ہندوستان کا وزیر اعظم مقرر کیا گیا اور مسلم لیگ کی طرف سے لیاقت علی خان صاحب کو وزیرخزانہ کا عہدہ دیا گیا۔اس کی پہلی افتتاحی تقریب وائسریگل لاج یعنی اسمبلی ہاؤس میں منعقد ہوئی۔بیگم شفیع بھی اخباری نمائندہ اور نامہ نگار کے طور پر مدعو کی چه حسب معمول ا مبشرات احمد عمر سولہ 16 سال کو ساتھ لے کر