محسنات

by Other Authors

Page 83 of 286

محسنات — Page 83

83 نظام بہتر ہوتا گیا اورلڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔اس کے بعد بفضل تعالیٰ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی خاص توجہ سے نصرت گرلز کالج کا اجراء ہوا اور اب بچیاں زیادہ تر بی اے اور ایم اے تک تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔(مساعی لجنہ بھارت صفحہ 7,6) متقی اور زاہدہ احمدی ماؤں کی اولادوں نے نہ صرف دینی لحاظ سے ممتاز مقام حاصل کیا بلکہ دنیاوی مروجہ علوم میں بھی نہایت عظیم حیثیت کے حامل ہوئے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور مکرم و محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی روشن ترین مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ان نامور ہستیوں نے صرف اپنی خداداد ذہنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر یہ عالمگیر شہرت حاصل نہیں کی تھی بلکہ اس میں ان کی منفرد، اخلاق فاضلہ سے مزین اور زہد و تقویٰ کی آئینہ دار شخصیات یعنی ان کی ماؤں کی تربیت اور شب و روز کی دعاؤں کا بھر پور ہاتھ تھا۔تاریخ احمدیت میں ایسی ہزار ہا روشن مثالیں موجود ہیں کہ دینی اعلی اقدار کے علاوہ احمدی بچوں یعنی نئی نسل کے لڑکوں اور لڑکیوں میں دُنیاوی لحاظ سے بھی ذہانت اور فراست میں ایک خاص قسم کی جلاء پیدا ہوگئی۔اور وہ اپنے ہم عصروں سے بلا شبہ نمایاں ہو گئے۔احمدی بچے اعلیٰ تعلیم کے لئے جب تمام دنیا میں پھیل گئے تو پاکستان کی طرح انہوں نے بیرون ملک بھی اپنی محنت، ذہانت اور مضبوط اخلاقی اقدار کی وجہ سے اپنے دائرہ عمل میں دوسروں کو متاثر کیا۔آج عالمگیر جماعت احمدیہ کے طبقہ نسواں کا اگر وسیع اور گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو تسلیم کرنا پڑیگا کہ احمدی خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکی ہیں۔وہ ڈاکٹر ہیں۔انجینئر ہیں ، کاروباری ماہرین ہیں۔کمپیوٹر سائنس میں