محسنات — Page 82
82 مسلمان عورت نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے اور ہمیشہ ایسے میدانوں میں عورتیں مردوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔پس ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہئے کہ آپ مردوں سے بھی اور دوسری مد مقابل لڑکیوں سے بھی آگے بڑھیں۔اس جدو جہد کو قائم رکھنا اور اس احساس کو بیدار رکھنا بہت ضروری ہے۔پس احمدیت کی تاریخ شاہد ہے کہ احمدی لڑکیوں نے دینی و دنیاوی لحاظ سے مد مقابل لڑکیوں کو مات دیدی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ احمدی خاتون نے آج ایک مستحکم اور منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔جیسا کہ اگلے صفحات میں احمدی خواتین کے تعلیمی اعزازات اور دیگر منفرد حیثیت کا تذکرہ کیا جائے گا۔حضرت مصلح موعود کی تعلیم میں دلچسپی کا عالم لجنہ بھارت کی ایک رپورٹ سے نمایاں ہوتا ہے تقسیم برصغیر کے بعد نا مساعد حالات کی وجہ سے تعلیمی نظام بھی درہم برہم ہو گیا تھا۔صدر لجنہ بھارت تحریر کرتی ہیں :- ستمبر 1952 ء تک قادیان کی لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہ تھا۔یہاں کے ایک استاد قریشی فضل حق صاحب کے پاس بچیاں میسر نا القرآن اور اردو پڑھتی تھیں۔چنانچہ جب یہ مشکل حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں پیش کی گئی تو حضور انور نے از راہ شفقت بچیوں کی تعلیم کے پیش نظر محترمہ استانی ربیعہ خانم مرحومہ کو قادیان بھجوایا چنانچہ آنمکر مہ نے مکرم مرزا گل محمد صاحب مرحوم کے مکان میں لڑکیوں کو با قاعدہ سرکاری نصاب کے مطابق پڑھانا شروع کیا۔آہستہ آہستہ دیگر اُستانیوں کا بھی انتظام ہوتا گیا۔1959ء میں چارلڑکیاں پہلی مرتبہ ( تقسیم ملک کے بعد ) مڈل کے امتحان میں شریک ہوئیں میٹرک کی تعلیم کے لئے انہیں دوسرے اسکولوں میں جانا پڑتا بالآخر 1965ء میں نصرت گرلز اسکول میں نویں کا اجراء ہوا اور 1969ء میں پہلی بار دو طالبات نے میٹرک کا امتحان دیا۔وقت کے ساتھ ساتھ نصرت گرلز اسکول کا