محسنات

by Other Authors

Page 81 of 286

محسنات — Page 81

81 24 جنوری 1958ء کو جامعہ نصرت کا ثانوی تعلیمی بورڈ لا ہور سے الحاق ہوا۔اور 1961 ء میں بی۔اے کلاسز کا الحاق پنجاب یونیورسٹی سے ہوا۔ایک معائنہ کے بعد محترم ڈاکٹر علی محمد صاحب پر نسپل لاہور کالج نے تاثرات کا اظہار کیا۔وو ر بوہ اپنی لڑکیوں کی تعلیم کے لحاظ سے تمام پنجاب میں سبقت لے گیا ہے۔عجب سماں ہے پڑھنے والیاں اور پڑھانے والیاں ایک ہی مقصد کے تحت رواں دواں ہیں ان میں سے کسی کی بھی توجہ کسی اور طرف نہیں۔اس بے لوث جذ بہ کو دیکھ کر بے اختیار کہنے پر مجبور ہوں کہ صحیح اسلامی تعلیم کی فضار بوہ ہی میں پائی جاتی ہے۔“ ( تاریخ لجنہ جلد دوم صفحه 252) اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم سے جامعہ نصرت ابتدائی مراحل سے ہی شاندار نتائج دکھانے لگا۔ایف اے اور بی اے کی طالبات کی شرح کا میابی بورڈ اور یو نیورسٹی سے کہیں آگے رہتی رہی۔1955ء سے 1967ء تک 9 طالبات نے عربی میں طلائی تمغہ جات حاصل کئے۔غیر نصابی سرگرمیوں مثلاً کھیلوں اور مباحثات میں بھی جامعہ نصرت کی طالبات نے متعدد اعزازات حاصل کئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے 1968ء میں جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر فرمایا:- پہلی بات جس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ نتائج کے خوش کن ہونے کے متعلق ہے۔بعض میدان مردوں کے ہیں اور بعض میدان عورتوں اور مردوں کے سانجھے ہیں۔سا تجھے میدان میں۔عورت نے کبھی مرد کے مقابلے میں شکست کا اعتراف نہیں کیا۔شکست کھانا یا نہ کھانا اور بات ہے۔لیکن عمل کے میدان مختلف ہیں بعض میدان عورتوں کے ہیں اور