محسنات — Page 80
80 لئے پڑھتی ہے کہ وہ دین کا کام کرے اسے معلوم ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔پس دونوں کا مقصد مشترک ہو گیا۔اور چونکہ دونوں قسم کی لڑکیاں درحقیقت ایک ہی مقصد اپنے سامنے رکھتی ہیں اسلئے جو اختلاف تمہیں اپنے اندر نظر آسکتا تھا۔وہ نہ رہا اور تم سب کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مدعا ہو گیا۔پس یہ مقصد ہے جو تمہارے سامنے ہوگا اور اس مقصد کے لئے تمہیں دینی رُوح بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے اور بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے تا کہ وہ مقصد پورا ہو جس کے لئے تم اس کا لج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئی ہو۔دوسرے کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیاں ہو سکتا ہے کہ خدا کو بھلا کر دنیوی کاموں میں ہی منہمک ہو جائیں مگر چونکہ یہ کالج احمد یہ کالج ہے اس لئے تمہارا فرض ہوگا کہ تم دونوں دامنوں کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔اگر ایک دامن بھی تمہارے ہاتھ سے چھٹ جاتا ہے تو تم اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتیں۔جو تمہارے سامنے رکھا گیا ہے۔اور جس کے پورا کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے۔میں۔۔۔امید کرتا ہوں کہ جو اس کالج میں پڑھانے والی ہوں گی وہ بھی اس بات کو مد نظر رکھ کر پڑھائیں گی کہ طالبات کے اندر ایسی آگ پیدا کی جائے جو ان کو پارہ کی طرح ہر وقت بے قرار اور مضطرب رکھے۔جس طرح پارہ ایک جگہ پر نہیں ٹکتا بلکہ وہ ہر آن اپنے اندر ایک اضطرابی کیفیت رکھتا ہے اسی طرح تمہارے اندروہ سیماب کی طرح تڑپنے والا دل ہونا چاہئے جو اُس وقت تک تمہیں چین نہ لینے دے جب تک تم احمدیت اور ( دینِ حق ) کی حقیقی روح کو دُنیا میں قائم نہ کر دو۔اسی طرح پروفیسروں کے اندر بھی یہ جذ بہ ہونا چاہئے کہ وہ صحیح طور پر تعلیم دیں۔اخلاق فاضلہ سکھائیں اور سچائی کی اہمیت تم پر روشن کریں۔تاریخ لجنہ حصہ دوم حصہ اقتباس صفحہ 240-242)