محسنات — Page 59
59 کے ساتھ کسی اور جگہ حراست میں بھیجا گیا۔( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 340) ایسی دردناک (قربانی) جس کے واقعات سُن کر غیروں کا کلیجہ منہ کو آتا ہے اور آنسو بے اختیار بہنے لگتے ہیں وہاں اس مومنہ نے انتہائی صبر ورضا کا نمونہ دکھایا۔اور اپنی صابرہ و شاکرہ ماں کا قابلِ تعریف رویہ دیکھ کر اُن کے بچوں نے بھی انتہائی صبر و استقلال کا نمونہ دکھایا۔در بدر دھکے کھائے ، مالی پریشانیاں اُٹھا ئیں اور ذہنی بے سکونی کا شکار ہوئے لیکن پائے ثبات میں لغزش نہ آئی اور احمدیت کے ساتھ پوری وفا اور خلوص کے ساتھ وابستہ رہے۔اس استقامت کا سہرا بھی حضرت شاہجہاں بی بی صاحبہ کے سر ہی بندھتا ہے۔حضرت شاہ جہاں بی بی صاحبہ کا یکم نومبر 1929ء کو انتقال ہوا۔مرحومہ صوم و صلوۃ کی پابند تھیں۔اُنہوں نے اپنے ورثہ کی 1/3 حصہ کی وصیت بھی کی تھی۔( حاشیہ صفحہ 349 تاریخ احمدیت جلد سوم ) حضرت سیّدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ تو کل علی اللہ کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھیں۔نامساعد حالات میں بھی بھی اللہ تعالیٰ کے محبت بھرے دامن کو نہ چھوڑا اور کسی انسان سے کچھ طلب کرنا تو در کنارا اپنی ضرورت کو چھپا کر رکھا اور کٹھن سے کٹھن وقت بھی بڑے حوصلہ اور صبر سے گزارا۔آپ کی صاحبزادی فوزیہ بیگم صاحبہ نے لکھا ہے:۔ایک دفعہ بعض حالات کی وجہ سے بہت پریشان تھیں۔اُن کے بڑے بھائی حضرت فضل عمر انہیں الگ لے گئے اور کہا حفیظ مجھے بتاؤ تمہیں کیا تکلیف ہے۔امی یہ سن کر رو پڑیں لیکن بولیں کچھ نہیں۔بڑے بھائی نے بڑے پیار سے کہا