محسنات — Page 58
58 گندے اور دل آزار اشتہارات نکلتے۔مگر آپ کے پہلو میں وہ دل تھا جو خدائے تعالیٰ کی تقدیر سے ہمیشہ ہم آہنگ رہا اور خدائے تعالیٰ کی رضا کو مقدم کیا۔آپ کے رضا بالقضاء کے مقام کی بھی خدائے تعالیٰ نے داد دی چنانچہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات پر جو نمونہ صبر اور رضا بالقضا کا آپ نے دکھایا اسے خدائے تعالٰی نے اتنا پسند فرمایا کہ اپنی پسندیدگی کا اظہار اس وحی سے کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس واقعہ کے بعد نازل ہوئی۔یعنی ” خدا خوش ہو گیا اس سے بھی حضرت اماں جان کے مقام کا پتہ لگتا ہے مگر جب آپ نے اپنے مولیٰ کی خوشنودی کا پروانہ سُنا تو فرمایا :- ” مجھے اس الہام سے اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ دو ہزار مبارک احمد بھی مرجاتا تو میں پرواہ نہ کرتی۔“ (سیرت نصرت جہاں بیگم صفحہ 64 -65 ) تاریخ احمدیت میں ایسی قابل صد رشک مثالیں بے شمار ہیں اور پھر خواتین کا کڑے سے کڑے امتحان میں صبر و رضا کے ساتھ گزرنا اور بھی قابل داد ہے اس لئے کہ عورتوں کو کمزور دل سمجھا جاتا ہے۔حضرت شہزادہ عبداللطیف صاحب (قربان راہِ مولا) کی اہلیہ محترمہ شاہجہاں بی بی صاحبہ اور اُن کے بچوں کے بارے میں تاریخ احمد بیت جلد سوم صفحہ 349 پر مختصر ذکر یوں ہے:- حضرت مسیح موعود نے حضرت شہزادہ عبداللطیف صاحب کی (قربانی) کا المناک واقعہ بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔پیچھے رہ جانے والوں کی حالت کے متعلق آپ نے فرمایا ” پھر بھی اس کا پاک جسم پتھروں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور اس کی بیوی اور اس کے یتیم بچوں کو خوست سے گرفتار کر کے بڑی ذلت اور عذاب