محسنات — Page 60
60 دو حفیظ گھبراؤ نہیں بعض وقت ریس میں پیچھے رہنے والا گھوڑا سب سے آگے نکل جاتا ہے۔“ (مصباح جنوری فروری 1988ء صفحہ 64) حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بھی اپنی شخصیت، اخلاق اور اعلیٰ کردار کے لحاظ سے ایک نہایت ممتاز احمدی خاتون تھیں۔جیسا کہ سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد فرمایا : - روز مرہ کے رہن سہن کے معیار کے حساب سے بعض پہنی اور معاشرتی اختلافات کے باوجود اپنے بلند معیار زندگی کو ترک کرتے ہوئے ایک واقف زندگی کے ساتھ بڑے صبر کے ساتھ وقت گزارا۔کبھی بوجھ نہیں ڈالا نہ کسی ایسی چیز کی خواہش کی جو میں انہیں دے نہیں سکتا تھا۔ہجرت کے وقت اپنا گھر بار سب کچھ چھوڑ کر دیارِ غیر جانا پڑا تو یہ تمام عرصہ نہایت صبر اور راضی برضا ہو کر گزارا۔آخری بیماری کے متعلق آپ نے فرمایا: - (مصباح جنوری 1993 ء صفحہ 4) بیماری اتنی شدید تھی اور سخت بے چینی بھی۔بار بار مجھ سے پوچھتی تھیں کہ بتائیں کیا بیماری ہے۔میں ٹھیک ہو جاؤں گی کہ نہیں لیکن اس کے بعد (یعنی میرے سمجھانے کے بعد اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کا طریقہ سکھانے کے بعد ) ایسا اطمینان ہوا کہ بے چینی کا کوئی اظہار نہیں۔نہ مجھ سے