محسنات — Page 228
228 اور صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ دونوں باوقار، صالحہ، بے حد متقی، عالمہ، فاضلہ، با عزت با عصمت، خوش اخلاق ،سچائی پسند برائیوں سے دور ، لوگوں سے بھلائی کرنے والی ہیں، یعنی اگر مجموعه حسن وخوبی دیکھنا ہو تو اماں جان کی اولا دکو دیکھو۔میر قاسم علی صاحب نائب ناظر نے ایک مرتبہ چوہدری غلام قادر صاحب اوکاڑہ کو بتایا کہ دریا گنج کے مکان میں ایک مرتبہ خاندان مسیح موعود قیام پذیر ہوا تو یہ بات سامنے آئی۔کہ حضرت اماں جان اپنے بچوں، بہو، بیٹیوں کی عبادات وغیرہ کے متعلق پوری توجہ سے نگرانی فرماتی ہیں نماز تہجد کا خاص اہتمام فرماتی ہیں اور ہمیشہ خاندان کے افراد کو حضرت مسیح موعود کے نقش قدم پر چلنے کی تاکید فرماتی رہتی ہیں۔“ (سیرت حضرت لتاں جان حصہ اول از شیخ محمود احمد صاحب عرفانی صفحه 274) حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی تربیت کا بہترین نمونہ حضرت فضل عمر کی ذات والا صفات تھی۔وہ عہد جو اُنہوں نے اپنے والد گرامی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ کے جسد مبارک کے سرہانے کیا تھا وہ مظہر ہے اُس عشق اور قربانی کا جو انہوں نے اپنی والدہ کی گود میں سیکھا۔یہ الفاظ کسی پختہ عمر کے مضبوط جسم کے مالک انسان کے نہیں بلکہ ایک 19 سالہ جوان منحنی کے دہن مبارک سے نکلے۔میں کروں گا عمر بھر تکمیل تیرے کام کی میں تری تبلیغ پھیلا دوں گا برروئے زمیں زندگی میری کٹے گی خدمت دین حق) میں وقف کر دوں گا خدا کے نام پر جانِ حزیں