محسنات

by Other Authors

Page 229 of 286

محسنات — Page 229

229 یہ قابل صد افتخار فرزند کس کی گود کا پالا تھا بلا شبہ حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کا۔۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بھی بچوں کی تربیت کے گر سے بہت اچھی طرح واقف تھیں نہ صرف اپنے بچوں کی تربیت نہایت اعلیٰ پیمانے پر کی بلکہ جماعت کے تمام بچوں کی تربیت کا خیال رکھتیں۔ایک مرتبہ احمدی بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ” تم چھوٹے ہو بے شک! مگر دُعا کرنا صرف بڑوں کا حق نہیں اس نعمت سے سب ہی فائدہ اُٹھانے کے حقدار ہیں۔۔۔ابھی سے دعاؤں کی عادت ڈالو اپنے اللہ میاں سے اپنے لئے دین ودنیا کی ہر خیر و نعمت مانگو۔دعا کیا کرو کہ مولا ہمیں ہر دھو کے اور فتنہ سے بچانا۔ہمیں شیطان کے پھندے میں نہ پھنسنے دینا۔ہم صادق رہیں نیک رہیں۔ہمیشہ صادقوں کے ساتھ رہیں۔قدرت ثانیہ سے وابستہ رہیں۔زندگی کی ہر راہ پر توہی ہمارا دستگیر بن جا اور رہنمائی فرما۔حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے کئی بار مجھے فرمایا کہ میرے ایک کام کے لئے دُعا کرنا۔دراصل یہ بچوں کو ذہن نشین کروانے کے لئے ہوتا تھا کہ ہم نے بھی دُعائیں کرنی ہیں۔(سیرت و سوانح حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ صفحہ 346-345) مندرجہ بالا اقتباس اس بات کا مظہر ہے کہ آپ بچوں کی نفسیات سے پوری طرح واقف تھیں یعنی جو بات بچوں کے دل میں چھوٹی عمر ہی سے راسخ کی جائے وہ تربیت کا ایک حصہ بن جاتی ہے اور یہ عادت اس طرح پر راسخ ہوتی ہے کہ تمام زندگی انسان اس پر عمل پیرا رہتا ہے۔آپ نے ایک مرتبہ بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:-