محسنات

by Other Authors

Page 194 of 286

محسنات — Page 194

194 اس قربانی کے نتیجے میں سو کے قریب مستورات نے احمدیت قبول کی۔یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایسا کرشمہ تھا جس نے مخالفین کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔تاریخ لجنہ جلد اول بحواله دوش بدوش) 21 /اکتوبر 1956ء کو لجنہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر حضور اقدس نے اس طرح پر اظہار مسرت فرمایا : - اس زمانے میں بھی اگر دیکھا جائے تو عورتوں کی قربانیاں دین کی خاطر کم نہیں ہیں۔1920ء میں جب میں نے ( بیت ) برلن کے لئے چندہ کی تحریک کی تو۔۔۔۔ام طاہر کی والدہ زندہ تھیں اُنہوں نے اُسی وقت اپنی بہوؤں اور بیٹیوں کو بلایا اور کہا سب زیور اتار کر رکھ دو میں یہ سب زیور ( بیت ) برلن میں دونگی۔چنانچہ وہ سب زیور بیچ کر بیت ) برلن کے لئے چندہ دے دیا گیا۔“ ( بیت ) برلن کے لئے احمدی خواتین نے بے مثال قربانیاں کیں اور بہت زیادہ ایمان افروز واقعات دیکھنے میں آئے۔چند ایک کا تذکرہ بطور نمونہ درج ذیل ہے:۔حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کو ایک جائیداد کی فروخت سے پانچ سو روپے حاصل ہوئے جو تمام چندہ میں دے دئے۔حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے ایک ہزار روپیہ دیا۔اسی طرح حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ ، بیگم مرزا شریف احمد صاحب، بیگم میر محمد الحق صاحب، اور بیگم صاحبہ خاں بہا در مرز اسلطان احمد صاحب نے بھی نمایاں حصہ لیا۔حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ چندہ جمع کرنے میں کامیابی کا گر ہمیشہ دعا اور اپنا نمونہ بتاتی تھیں۔حضرت سیّدہ امتہ احئی صاحبہ نے نقد اور حضرت سیّدہ اُمّم طاہر صاحبہ نے اپنا