محسنات — Page 171
171 چاروں بچوں کو لے کر ربوہ روانہ ہو گئیں۔سیکیوں اور آہوں میں زیرلب دعائیں کرتی رہیں۔لوگ آپ کا بلند عزم ،حوصلہ اور صبر وتحمل دیکھ کر حیران ہوتے تھے۔آپ کے شوہر کی دوکان لوٹ لی گئی۔قاتل وہاں دندناتا پھرتا تھا لیکن کوئی بھی اُسے پکڑنے والا نہ تھا۔لیکن خدا کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔وہ پاگل ہو گیا اور دیوانگی کی حالت میں گلیوں میں نیم برہنہ پھرتا تھا اور کچھ عرصہ نظر آنے کے بعد کہیں گم ہو گیا اور وہ شخص جو مریض کے بہانے ڈاکٹر صاحب شہید کو بلانے آیا تھا۔وہ بھی اپنے بھائی کے ہاتھوں بیوی بچوں سمیت قتل ہو گیا۔حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ظالموں کی پکڑ ضرور ہوتی ہے خواہ ہم ان باتوں کا تتبع کریں یا نہ کریں۔جماعت کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے اور خدا کی راہ میں (قربان) ہونے والوں سے خدا نے جو سلوک کیا اور اُن کے دُشمنوں سے جو سلوک کیا اُس پر نظر رکھیں اور تحقیق کے ذریعے مستند واقعات محفوظ کئے جائیں۔پھر حضور نے اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر منور احمد صاحبہ ( قربان راہِ مولا) سکرنڈ کا واقعہ بیان فرمایا۔وہ بیان کرتی ہیں کہ :- ڈاکٹر صاحب کی (قربانی) سے قبل ان کی اہلیہ نے خواب میں دیکھا کہ میری سونے کی چوڑیوں میں سے ایک چوڑی ٹوٹ کر گر گئی ہے اور ساتھ ہی بہت بڑا ہجوم ہے اور عورتیں باری باری میرے گلے لگ کر رو رہی ہیں اور میں سمجھ نہ سکی کہ وہ کیوں رو رہی ہیں۔صبح اُٹھ کر پریشان رہی ،صدقہ دیا مگر یوں محسوس ہوا کہ جسم میں سے جان نکل گئی ہے۔ڈاکٹر صاحب کو خواب سنائی تو کہنے لگے اللہ پر بھروسہ رکھو جو رات قبر میں آنی ہے وہ ہر گز با ہر نہیں آئے گی۔بہت بہادر تھے اور کہا کرتے تھے کہ (قربانی) ہر کسی کو نہیں ملتی۔یہ نصیبوں والوں کا حصہ ہے۔کاش یہ رتبہ مجھے بھی نصیب ہو۔سکرنڈ کے حالات خراب ہوئے تو مجھے کہنے لگے کہ ربوہ چلی جاؤ مگر میں نہ