محسنات

by Other Authors

Page 172 of 286

محسنات — Page 172

172 مانی اور کہا کہ آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔جب شہادت کا دن آیا تو کلینک میں دو آدمی آئے اور آپ کو گولی مار کر ( قربان ) کر دیا۔بیان کرتی ہیں کہ شدید گرمی میں پونے تین بجے کے قریب تینوں بچے سوئے ہوئے تھے کہ اچانک اٹھ کر چیچنیں مارنے لگے۔میں پہلے ہی بے چین تھی کہ اتنے میں کمپوڈر روتا ہوا آیا اور بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کو کسی نے گولی مار دی ہے۔بہت ہجوم اکٹھا ہو گیا۔پولیس آئی اور لاش لے گئی۔ایک غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا۔بڑی تکلیف میں یہ دن کئے بچے پوچھتے ہیں تو میں اُن کو سمجھاتی ہوں کہ تمہارے ابوکوشہادت کا شوق تھا وہ انہیں نصیب ہوگئی۔مکرمہ ثریا صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ وہ گوجرانوالہ میں علی پور میں رہتی تھیں۔1974ء کے ہنگاموں میں جب وہاں پر جلوس نکلے تو ایک رات پانچ چھ آدمی ہمارے گھر آگئے۔میری تائی جان نے پوچھا تم کیا چاہتے ہو تو انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے گھروں کو اور تم کو جلانا چاہتے ہیں۔میری تائی جان نے اُن سے کہا کہ بیشک ہمارے گھروں کو جلا دو لیکن ہمیں یہاں سے نکل جانے دو۔اتنے میں میرے بہنوئی عنایت صاحب بھی آگئے۔اُنہوں نے میرے بہنوئی اور میرے والد غلام قادر صاحب کو پکڑ لیا۔میرے سامنے اُن کو ز بر دستی گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔اکیلی عورت تھی کچھ نہ کر سکتی تھی۔اور میرے دیکھتے دیکھتے اُن دونوں کو گولیاں مارکر ( قربان ) کر دیا۔اللہ نے مجھے صبر کی توفیق بخشی۔دو ماہ بعد میری والدہ بھی وفات پاگئیں۔بہت تکلیف دہ حالات تھے۔مگر اللہ نے ہر موقع پر ثابت قدم رکھا۔محترمہ امۃ اللہ صاحبہ اور امتۃ الرشید صاحبہ بنت ڈاکٹر عبدالقدیر جدران صاحب ( قربان راہِ مولا ) بیان کرتی ہیں کہ 1984ء میں جب حالات خراب ہوئے تو آپ کو کئی دفعہ دھمکی آمیز خط آئے کہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔لیکن آپ کو ان دھمکیوں سے کوئی خوف اور ڈر نہ تھا بلکہ نماز تہجد میں