محسنات

by Other Authors

Page 170 of 286

محسنات — Page 170

170 میں ہی دفن ہوئیں۔محترمہ شمیم اختر صاحبہ اہلیہ مقبول احمد صاحب ( قربان راه مولا بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر مقبول احمد صاحب نے 1967ء میں بیعت کی تھی۔احمدیت قبول کرنے کے بعد مولوی آپ کو بہت تنگ کرتے تھے اور دھمکیاں دیتے تھے۔آپ کا لکڑی کا ایک آرا تھا۔ایک دن ایک نقاب پوش شخص لکڑی خرید نے کے بہانے سے آیا اور خنجر نکال کر آپ پر پے در پے وار کر کے ( قربان ) کر دیا۔شوہر کی شہادت پر سسرال والوں نے کہا احمدیت چھوڑ دو تو ہم تمہیں پناہ دیں گے۔دشمن بھی دھمکیاں دیتے تھے کہ احمدیت چھوڑ دو اور ہمارے ساتھ مل جاؤ۔ہم تمہیں سینے سے لگا ئیں گے لیکن آپ نے ان سب باتوں کو ر ڈ کر دیا اور کسی قیمت پر احمدیت چھوڑ نا گوارا نہ کیا جس کی خاطر آپ کے شوہر نے جان دی تھی۔محترمہ مریم سلطانہ صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر محمد احمد خان صاحب بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے خاوند اور چار بچوں کے ساتھ ضلع کوہاٹ کے علاقہ ٹل میں مقیم تھی۔اس علاقہ میں کوئی احمدی گھرانہ نہ تھا۔1953ء کے فسادات میں وہاں مخالفت کی آگ بہت بھڑک اٹھی۔مخالفین میرے خاوند کو دھوکہ دے کر لے گئے اور غیر علاقہ میں جا کر (قربان) کر دیا۔جب آپ کو شہادت کی خبر ملی تو اردگرد کوئی بھی آپ کا دوست نہ تھا۔سب مخالف تھے۔اپنے آپ کو دلاسا دیا اور ہمت کر کے بچوں کو خدا کے سپر د کر کے اپنے میاں کی لاش تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئی۔جس قسم کے حالات تھے لاش کا ملنا ممکن نہ تھا۔آپ لاش تلاش کرتی پھرتی تھیں۔اور شہر کے لوگ اُن کے قتل پر خوشیاں منا رہے تھے۔آپ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔کوئی آپ کے غم میں آپ کا ساتھی نہ تھا۔آخر آپ نے نعش حاصل کر لی اور ٹرک کا انتظام کیا۔نعش کو ٹرک میں رکھ کر