محسنات

by Other Authors

Page 167 of 286

محسنات — Page 167

167 ( قربان راہ مولا ) لکھتی ہیں کہ :- جون 1974 ء میں جب حالات خراب ہوئے تو ایک مولوی کے کہنے پر میرے بیٹے مقصود احمد کو پولیس دوکان پر سے گرفتار کر کے لے گئی اور حوالات میں بند کر دیا۔اگلے دن جلوسوں نے گھروں پر حملہ کر دیا۔عورتوں کو ایک احمدی کے گھر جو بظاہر محفوظ تھا پہنچا دیا گیا۔شام تک ہمیں کوئی خبر نہ ملی۔بعض لوگوں نے بتایا کہ ہمارے گھروں کو جلوس نے آگ لگا دی ہے اور وہاں پر موجود تمام افراد زخمی ہو گئے ہیں۔دشمنوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ اُس گھر میں جہاں ہم نے پناہ لی تھی عورتیں چھپی ہوئی ہیں لہذا اس گھر پر بھی حملے کا خطرہ بڑھ گیا۔ہم رات کے اندھیرے میں وہاں سے نکل کررا ہوالی چلی گئیں اُس وقت ہمیں کچھ علم نہ تھا کہ ہمارے پیاروں سے کیا بیتی ہے۔اگر وہ زخمی ہیں تو کہاں ہیں؟ اس وقت شام کو جب ایک ٹرک چھ شہیدوں کی لاشوں کو لے کر راہوالی پہنچا میرے تو اسوقت ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے پیارے تو (قربان) ہو چکے ہیں۔میاں منظور احمد ، بیٹا محمود احمد اور داماد سعید احمد تو (قربان) ہو چکے تھے۔چھوٹا بیٹا شدید زخمی تھا اور بڑا بیٹا حوالات میں بند تھا اُسے اپنے گھر والوں کی کچھ خبر نہ تھی کہ اُن پر کیا قیامت گزرگئی ہے۔تفصیلات بیان کرتے ہوئے صفیہ صدیقہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ (ایک سپاہی کا بیان ) یکم جون کو سول لائن میں ایک گھر کی چھت پر جو معرکہ میں نے دیکھا وہ آج سے چودہ سو سال پہلے صرف تاریخ ( دینِ حق ) میں پڑھنے کو ملا تھا کہ کس طرح صحابہ ( دین حق ) پر جان نثار کرتے تھے۔اس سپاہی نے کہا کہ میں اُس لڑکے کو کبھی نہ بھلا سکوں گا جس کی عمر بمشکل سترہ (17) اٹھارہ (18) برس ہوگی سفید رنگ لمبا قد اُس کے ہاتھ میں بندوق تھی ( یہ حلیہ محترمہ صفیہ صدیقہ کے بیٹے محمود احمد طاہر کا تھا ) ہمارے ایک ساتھی نے جاتے ہی اُس کے ہاتھ پر ڈنڈا مار کر بندوق چھین