محسنات — Page 168
168 لی۔جلوس اُس لڑکے پر تشدد کر رہا تھا جلوس میں سے کسی نے کہا مسلمان ہو جاؤ کلمہ پڑھ لو تو اُس نے کلمہ پڑھا اور کہا کہ میں سچا احمدی ہوں مومن ہوں جلوس میں سے کسی نے کہا مرزا کو گالیاں دو اُس لڑکے نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی گالی نہ دی ہے اور نہ سنی ہے اور تم مجھے اس ہستی کو گالیاں دینے کو کہہ رہے ہو جو اس جان سے بھی پیارا ہے اور ساتھ ہی اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ باد، احمدیت زندہ باد کا نعرہ لگایا، نعرہ لگانے کی دیر تھی کہ جلوس نے اُس لڑکے کو چھت پر سے اُٹھا کر نیچے پھینک دیا۔اینٹوں اور پتھروں کی بارشیں تو پہلے ہی اُس پر ہو رہی تھیں مزید چھت پر بنے پردے کی جالیاں تو ڑ کر اُس پر پھینکیں اور اُس لڑکے نے میرے سامنے اپنی جان نثار کر دی۔صفیہ صدیقہ صاحبہ اپنے بیٹے محمود احمد ( قربان راہِ مولا) کے بارے میں لکھتی ہیں کہ میرا بیٹ محمد نہایت خوبصورت ،خوب سیرت اور پاک طینت تھا۔پانچ وقت کا نمازی ، دعوت الی اللہ کا دھنی تھا۔حضور نے ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ :- کیا۔۔میرے شوہر قریشی محمود احمد صاحب ( قربان راہِ مولا ) کو ( قربانی) کا شوق تھا۔1974ء میں جب مخالفت زوروں پر تھی تو ہر موقعہ پر ثابت قدمی کا مظاہرہ 1982ء میں اُن کے ماموں زاد بھائی مقبول احمد کو پنوں عاقل میں (قربان) کر دیا گیا۔تو کہا اے مقبول یہ رتبہ خوش نصیبوں کو حاصل ہوتا ہے کاش مجھے بھی یہ رتبہ حاصل ہو اور میں بھی ربوہ میں آؤں۔۔پولیس نے زمین بیچ کر انہیں کہیں اور چلے جانے کا مشورہ دیا تو آپ نے جواب دیا کہ مخالفت تو ہر جگہ ہے اگر مجھے (قربانی) ملنی ہے تو کہیں بھی مل سکتی ہے۔ہمارے بیٹے اسکول