محسنات

by Other Authors

Page 104 of 286

محسنات — Page 104

104 بیوی تھیں۔شادی کے چارسال بعد 1922ء میں خود تحقیق کر کے احمدی ہوئیں اور پھر آخری سانس تک عہد بیعت بڑی وفا کے ساتھ بنھایا۔لجنہ اماءاللہ دہلی اور پھر لجنہ اماء اللہ لاہور کی نہایت مخلص اور فعال عہدیدار تھیں۔ڈاکٹر سید شفیع احمد محقق دہلوی جو حضرت خواجہ میر درد کے خاندان سے تھے غیر منقسم ہندوستان کے ایک بلند پایہ صحافی تھے۔صحافت کے میدان میں انہوں نے تقریباً 28 سال تک مسلمانوں کے مشترکہ مقصد کی بہترین خدمت کی۔ہندو پریس اُن کے سامنے مہر بلب تھا آپ نے تقریباً چالیس کتب ( دینِ حق ) کی سر بلندی کے لئے تصنیف کیں۔کم و بیش 18 اخبارات کے ایڈیٹر اور ناشر ر ہے۔ہندوستان کے بڑے صحافیوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔آپ نہایت اعلیٰ درجہ کے مناظر اور داعی الی اللہ تھے۔ڈاکٹر شفیع احمد صاحب کی وفات کے بعد 1942ء میں بیگم شفیع صاحبہ میدانِ صحافت میں اُتریں اور اپنے نہایت قابل شوہر کے کام کو بڑی جرأت، ہمت اور جوانمردی سے سنبھالا۔چھ ماہ سے 21 سال تک کی عمر کے سات بچے تھے۔اس اولوالعزم خاتون نے ایک آہنی عزم کے ساتھ میدان عمل میں آکر ہر چینج قبول کیا۔1913ء سے اُن کے شوہر ایک رسالہ ” دستکاری ماہوار نکالتے تھے۔اس اخبار کو ہفت روزہ کر دیا اور عورتوں میں ذہنی و سیاسی شعور بیدار کرنے کے لئے اس اخبار کو خواتین کا سیاسی ترجمان بنادیا۔گویا لجنہ کے ایک اہم مقصد یعنی عورتوں کی تعلیم و تربیت کو آپ نے اخبار کے ذریعے غیر از جماعت خواتین میں بھی وسیع کرنے کی ٹھانی اور اُن کی علمی و ذہنی بیداری کو اپنے اخبار کا نصب العین بنایا۔یہ وقت سیاسی لحاظ سے بڑا اہم تھا۔مسلم لیگ قرارداد پاکستان منظور کر چکی تھی۔ہندوستان کے مسلم علماء اورمسلم سیاسی رہنماؤں کی اکثریت کانگریس میں شامل تھی۔صرف حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی کوششیں اور دعائیں قائد اعظم کے ساتھ تھیں۔چنانچہ جماعت احمد یہ اپنے امام