محسنات — Page 100
100 ہوئے ڈرتے تھے۔مگر وہ عورت پیدل سمبڑیال کی طرف گئی۔وہاں سے گوجرانوالہ کی طرف آگئی اور پھر گوجرانوالہ سے کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچی اور ہمیں جماعت کے حالات سے آگاہ کیا اب ہم نے یہاں سے ان کو امداد کے لئے آدمی بھجوائے۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری عورتیں مردوں سے زیادہ دلیر ہیں۔دلیر اور مخلص عورتیں: مجھے یاد ہے ایک دفعہ قادیان میں غیر احمدی علماء نے جلسہ کیا۔پولیس اور گورنمنٹ اُن کی تائید میں تھی۔مولوی ثناء اللہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمد یوں کو بُرا بھلا کہا اور پولیس نے بھی عوام کے ساتھ مل کر جماعت کے خلاف نعرے لگائے۔جس کی وجہ سے مولوی ثنا اللہ صاحب اور بھی دلیر ہو گئے۔قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں بھینی بانگر ہے۔اُس جگہ کی ایک عورت وہاں سے گزری اُس نے گالیاں سنیں تو کھڑی ہوگئی اور پنجابی میں بلند آواز سے کہنے لگی۔تیرے دادے دی داڑھی بگیا توں مرزا صاحب نوں گالیاں کیوں دینا ایں۔کیونکہ اس وقت جماعت کو صبر وتحمل کی بار بار تلقین کی گئی تھی اسلئے جماعت کے جو دوست وہاں کھڑے تھے وہ اُس کے پیچھے پڑ گئے اور اسے کہنے لگے بی بی توں نہ بول۔تو خدا کے فضل سے پرانے زمانے سے ہی جماعت میں ایسی دلیر اور مخلص عورتیں موجود رہی ہیں۔کسی زمانہ میں یہ نمونہ ابتدائی مسلمانوں میں پایا جاتا تھا لیکن اب اس کا نمونہ احمدیت جو حقیقی۔ہے، پیش کر رہی ہے۔“ بھیرہ کی رہنے والی بہادر عورت : (الفضل 8 جنوری1958 ءصفحہ4) سید نا حضرت مصلح موعود نے ایک احمدی خاتون کی مثال دیتے ہوئے فرمایا:-