محسنات — Page 99
99 ہیں اور کرتے ہیں؟“ میری والدہ صفحہ 123 تا 125) ایک موقع پر حضرت فضل عمر نے احمدی عورتوں کی بہادری کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :- و گزشتہ دنوں جب دلی میں جلسہ کے موقع پر مخالفین نے شور مچایا اور پتھر پھینکے تو اس وقت سب عورتوں نے شہادت دی کہ جس قدر غیر عورتیں جلسہ میں شامل تھیں۔گھبرا کر بولنے لگ گئیں۔مگر قادیان کی عورتوں نے کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا اور وہ خاموش بیٹھی رہیں بلکہ جب غیر احمدی عورتوں میں گھبراہٹ زیادہ پیدا ہوگئی تو قادیان کی احمدی عورتوں نے ان کے گرد حلقہ باندھ لیا اور اپنی بہادری کا ثبوت پیش کیا۔یہ روح جس کا مظاہرہ احمدی عورتوں نے وہاں کیا باہر کی عورتوں میں نہیں تھی۔جس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں کی عورتیں دین کی باتیں سنتی رہتی ہیں۔لجنہ کے ذریعہ انہیں مختلف مواقع پر دینی کام کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔اور وہ مجھتی ہیں کہ شور یا گھبراہٹ سے کام نہیں بنتا بلکہ تنظیم سے کامیابی حاصل ہوا کرتی ہے چنانچہ انہوں نے تنظیم سے کام لیا اور کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہ کیا۔سیالکوٹ سے ربوہ تک کا پیدل سفر : حضرت فضل عمر نے اپنے خطاب میں فرمایا : - (مصباح فروری 1945ء) مجھے یاد ہے 1953 ء کے فسادات کے دوران ضلع سیالکوٹ کی ایک عورت پیدل ربوہ پہنچی اور اس نے ہمیں بتایا کہ ہمارا گاؤں دوسرے علاقہ سے کٹ چکا ہے اور مخالفوں نے ہمارا پانی بند کر دیا ہے۔اگر ہم پانی لینے جاتے ہیں تو وہ ہمیں مارتے ہیں۔اب دیکھو یہ کتنی ہمت کی بات ہے کہ جہاں مرد قدم نہ رکھ سکے وہاں ایک عورت نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔اُس وقت مرد اپنے گھروں سے باہر نکلتے