محسنات

by Other Authors

Page 61 of 286

محسنات — Page 61

61 پوچھا نہ بات کی۔مجھے ضرورت ہی نہیں پڑی۔تو اللہ کے فضل سے وہ بات سمجھ کر آخری دم تک وفا کے ساتھ اس عہد پر قائم رہیں اور غیر اللہ کی طرف نہیں دیکھا۔آخر پر یہ حالت تھی کہ بجائے اس کے کہ ہم اُن کو تسلی دیتے وہ ہمیں تسلی دیتی تھیں۔مجھے کہا آپ بس کریں اتناغم اور فکر نہ کریں۔اتناغم نہ لگا ئیں۔میں نے جواب دیا بی بی میں مجبور ہوں۔مجھے تو دُور کے غم بھی تکلیف دیتے ہیں۔کوئی کسی کونے میں بیمار ہو میں بے چین ہو جایا کرتا ہوں۔۔ایک دفعہ میں نے کہا بی بی میں آپ کے لئے بہت دُعا کر رہا ہوں۔آپ کو تصور نہیں کہ کس طرح کر رہا ہوں تو کہتی ہیں صرف میرے لئے نہ کریں ساری دُنیا کے بیماروں کے لئے کریں۔میں نے کہا میں پہلے ہی اُن کے لئے دُعا کر رہا ہوں اور کبھی ہوا ہی نہیں کہ تمہارے لئے کروں اور توجہ پھیل کر ساری دُنیا میں سب بیماروں تک نہ پہنچے۔جس جس ملک میں لوگ بیمار ہیں اور تکلیف میں ہیں تمہارے دُکھ کا فیض دعاؤں کی صورت میں سب کو پہنچ رہا ہے۔اس پر چہرے پر بڑا ہی اطمینان آیا اور کہا ہاں یہ ٹھیک ہے۔اسی طرح دعا کیا کریں۔(مصباح جنوری 1993 ءصفحہ 17-19) مندرجہ بالا اقتباس مظہر ہے اس بات کا کہ وہ خاتونِ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کے دامن کی صرف خود ہی بھکاری نہ تھیں بلکہ سکون اور فضل و کرم کا سایہ تمام دُنیا کے دُکھی انسانوں تک ممتد ہونا انہیں راحت پہنچانے کا موجب تھا۔اُن کی