محسنات — Page 62
62 ہمشیرہ صاحبہ مکرمہ صبیحہ صاحبہ بیگم مرزا انور صاحب نے لکھا ہے۔اُس کی ایک اور خوبی تو کل علی اللہ بھی تھی۔آخری بیماری میں مجھ سے جب بھی ملاقات ہوتی کبھی مجھ سے ایسی بات نہ کی جس سے بچیوں یا حضور کے بارے میں کسی بھی فکر مندی یا پریشانی کے جذبات پائے جاتے ہوں۔ہاں البتہ ہر دفعہ مجھے یہ ضرور کہتیں میرے لئے دعا کرتی ہو؟۔66 (مصباح جنوری 1993 ء صفحہ 65) خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے راہِ مولا میں قربان محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر احمد صاحب کے سانحۂ جانکاہ کے موقع پر اُن کے والدین اور اہلیہ محترمہ نے انتہائی مومنانہ صبر ورضا کا نمونہ پیش کیا۔محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ جو حضرت مسیح موعود کی نواسی ہیں اور دُختِ کرام حضرت سیّدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ مرحومہ کی تربیت یافتہ ہیں نے اپنے ہیرے جیسے لخت جگر کی قربانی کے موقع پر جس صبر و رضا اور تو کل علی اللہ کا نمونہ دکھایا وہ قابل صدر شک و تحسین ہے۔آپ نے ان دلخراش لمحوں میں جبکہ گلشن احمد کا حسین ترین پھول نہایت بے دردی سے مسلا گیا۔یہ الفاظ ادا کئے۔تمہاری جان کا نذرانہ مجھے سرفراز کر گیا۔“ (الفضل 7 جون 1999 ء صفحہ 3) جب غم تازہ ہو اور صدمہ نہایت جانکاہ ہوایسے الفاظ کی ادائیگی صرف اُس ہستی کی زبان سے ہوسکتی ہے جو کامل طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے اپنا سر جھکا دے۔مکرمہ محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ اپنے مضمون میں لکھتی ہیں :- ہیں:- میں نے اپنے ملٹے کو جزاک اللہ قا در جزاک اللہ