محسنات — Page 252
252 کرلیتیں ہر مہمان سے نہایت خندہ پیشانی سے پیش آتیں۔اکثر خود اپنے ہاتھ سے مہمانوں کے لئے چائے وغیرہ تیار کرتیں۔مہمان نوازی سے شغف تھا مگر تکلف اور نام و نمود کا عنصر نام کو نہ تھا۔ہرا میر و غریب سے یکساں برتا ؤ ہوتا۔ایک دفعہ جلسہ کے ایام میں ربوہ میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت اماں جی حسب معمول اپنے باورچی خانہ میں مہمانوں کی خدمت کے لئے موجود تھیں۔حضرت چوہدری صاحب کی تشریف آوری کا علم ہوا تو دروازہ پر تشریف لے گئیں۔ملحقہ ڈیوڑھی میں ان کے لئے چار پائی بچھوا دی۔حضرت چوہدری صاحب بے تکلفی سے اُس پر بیٹھ گئے۔باتیں ہوتی رہیں۔حضرت اماں جی نے فرمایا۔کھانا کھا کر جائیں اور عام سادہ برتنوں میں ایک ٹرے میں اندر کھانا بھجوا دیا۔حضرت چوہدری صاحب نے بشاشت اور شکر گزاری کے ساتھ کھایا۔کوئی اہتمام نہیں کوئی تکلف نہیں۔عجیب پر وقار انداز تھا مہمان نوازی کا۔کیا ہی مبارک تھیں یہ مہمان نواز اور کیا ہی مبارک تھے ان کے عقیدت مند مہمان۔نہ جانے ایسے کتنے واقعات ان کی زندگی میں پیش آئے ہوں گے جن کی یادیں بے شمار دلوں پر ثبت ہیں۔ان برکات اور نوازشات الہیہ کی عملی شکر گزاری آپ نے اس طرح کی کہ آپ کی پاک اور متقیانہ زندگی ، ہمدردی خلائق سے بھر پور زندگی ہمارے لئے نشان راہ بن گئی، ایک جلتی ہوئی شمع جو ہماری زندگی کے تاریک گوشوں کو منور کر دیتی ہے اور (مصباح ستمبر 1989 ء صفحہ 30) کرتی رہے گی۔جذ بہ خدمت خلق کا ایک اور حسین تذکرہ ملاحظہ ہو! حضرت مرزا طاہر احمد خلیفة امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی والدہ ماجدہ کے اخلاق عالیہ اور اوصاف حمیدہ کے تذکرہ میں رقم فرمایا : - " آپ کی یادوں کے ہراول دستوں میں مجھے آپ کا جذ بہ خدمت خلق نظر