محسنات

by Other Authors

Page 251 of 286

محسنات — Page 251

251 اس کو پڑھا دینا۔حضرت اماں جی نے ساری زندگی بڑے صبر وشکر اور وقار کے ساتھ گزاری۔اگر کسی نے ذراسی بھی نیکی آپ سے کی تو آپ نے ہمیشہ اُسے یادرکھا۔جب بھی موقع ہوتا اپنے بچوں کو بتاتیں کہ فلاں فلاں نے تم سے اتنی اتنی نیکیاں کی ہیں۔اور ہمیشہ شکر گزاری کے ساتھ ان سے نیک سلوک کرنے کی تلقین فرماتیں۔سید نا حضرت فضل عمر کی نوازشات کا ذکر تو انتہائی شکر گزاری کے ساتھ اکثر و بیشتر آپ کے لبوں پر ہوتا۔آپ کی زندگی انتہائی سادی اور درویشانہ تھی۔“ 66 (مصباح اگست دوستمبر 1989ء) مہمان نوازی غربا پروری ، صبر وحلم ، سیر چشمی اور قناعت ، سخاوت اور فراخدلی، صلہ رحمی و شکر گزاری اور سادگی و تو کل آپ کی سیرت کے ممتاز اور نمایاں پہلو تھے۔مہمان نوازی آپ کے اخلاق کا سب سے نمایاں جو ہر تھا۔بلا مبالغہ ہزاروں ہزار انسان ہیں جن کی خدمت اور مہمان نوازی کا شرف آپ کو حاصل ہوتا رہا۔سید نا حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی زندگی میں اور اس کے بعد بھی قادیان میں ساری زندگی آپ کا وسیع اور سادہ مکان ایک مستقل مہمان خانہ بنارہتا تھا۔خصوصاً جلسہ سالانہ کے ایام میں سینکڑوں خواتین اور بچے آپ کے ہاں بطور مہمان قیام کرتے تھے۔تمام گھر خالی کر کے مہمانوں کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔آپ ایک چھوٹی سی چار پائی اپنے لئے کچے باورچی خانہ میں ڈلوالیا کرتیں اور بعض اوقات وہ بھی کسی مہمان ہی کے کام آتی۔آپ سب کی مہمان نوازی اور آرام کا خیال ایسے انہماک ، جوش اور خلوص کے ساتھ کرتیں کہ اس کی مثال کم نظر آسکتی ہے۔خصوصاً غرباء اور ضعیف العمر ، بیمار اور بچے آپ کی توجہ کا خاص مرکز بنے رہتے۔ان ایام میں بمشکل دو تین گھنٹے کچھ آرام