محسنات

by Other Authors

Page 253 of 286

محسنات — Page 253

253 آتا ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ کا نام اس تصور سے الگ ہو کر میرے ذہن میں داخل ہوا ہو۔بے کسوں ، یتیموں ، مساکین، مصیبت زدگان اور مظلوموں سے گہری ہمدردی آپ کی شخصیت کا جز ولا نیک تھا یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ جذبہ ہمدردی اُن کے خون میں گھل مل کر اُن کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔یہ ہمدردی جذباتی بھی تھی قولی بھی اور فعلی بھی اور یہ رنگ ایسا غالب تھا کہ گویا سیرت کے دوسرے تمام پہلوؤں میں سرایت کر گیا تھا۔اس جذ بہ کو تسکین دینے کے لئے آپ نے مالی قربانی بھی بہت کی۔جانی بھی اور جذباتی بھی۔مجھے یاد ہے وفات سے ایک سال پہلے ڈلہوزی میں رمضان کے مہینے میں باوجود بیماری کے حضور کے تمام عملے کے لئے سحری کے وقت خود اپنے ہاتھ سے پراٹھے پکایا کرتی تھیں۔بات دراصل یہ تھی کہ حضور کی طرف سے ان دنوں مالی حالات کے پیش نظر جو خرچ ملتا تھا اس سے اتنی گنجائش نہیں نکل سکتی تھی کہ کھلا خرچ کیا جا سکے۔اور جتنا بھی اس غرض کے لئے خرچ کیا جاسکتا تھا۔اس میں باورچی نے مطلوبہ تعداد میں پراٹھے پکانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔باورچی مُصر تھا کہ یا مجھے گھی زیادہ دو یا مجھ سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔ادھر خرچ کی تنگی اس کی اجازت نہیں دیتی تھی۔چنانچہ ایک دو روزے اسی کشمکش میں گزر گئے اور عملہ کے اراکین سالن کے ساتھ عام روٹی کھا کر گزارا کرتے رہے۔ماشکی نے امی سے شکایت کی کہ خشک روٹی سے روزے رکھ کر مجھ سے اتنی محنت کا کام نہیں ہوتا حالانکہ محنت کرنے والوں کو روزے کے دنوں میں اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ اسی رات سے آپ نے خود اٹھ کر پراٹھے پکانے شروع کئے اور اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت عطا فرمائی کہ اسی گھی میں جس میں باورچی کے نزدیک اتنے افراد کے لئے پراٹھے پکنے ناممکن تھے ،سارے عملہ کی ضرورت پوری ہوتی رہی۔بیماری کی وجہ سے بعض اوقات آپ کو خاصی تکلیف اٹھانی پڑتی تھی مگر آپ کہتی تھیں کہ میں یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ محنت کرنے والے سحری کے وقت خشک روٹی کھائیں۔