محسنات — Page 21
21 یہ سُن کر آبدیدہ ہو گئیں اور کہنے لگیں یہ نہ کہو بعض وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی خدا کے برابر لگنے لگتی ہے۔اس وقت مجھے پتہ چلا کہ مدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بھی آپ کتنی سرشار تھیں۔خدا تعالی کی ذات پر بے انتہا تو کل تھا۔دعاؤں پر بے حد یقین تھا۔صحت کی حالت میں گھنٹوں عبادت میں گزارتیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام چار سال کی عمر میں آپ کو اپنے مولیٰ کے سپر د کر گئے اور حقیقتا ساری زندگی اپنے مولا کی گود میں رہیں۔بسا اوقات کسی چیز کی خواہش کر لیتیں اور وہ غیب سے آجاتی۔پھر تحدیث نعمت کے طور پر بار بار اس کا ذکر کرتیں اور خوش ہوتیں۔غیر اللہ پر بھروسہ کرنے سے سخت نفرت تھی۔(مصباح جنوری، فروری 1988ء صفحہ 65-64) حضرت سیدہ سعیدة النساء صاحبه: حضرت سیّدہ سعیدۃ النساء صاحبہ والدہ حضرت سیدہ اُم طاہر صاحبہ کے بارے میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔” آپ نے بچپن سے آخر عمر تک عبادت الہی میں گذاری۔بچپن اور جوانی میں اپنوں اور دوسروں میں پارسا کے لقب سے مشہور تھیں۔بیعت کے بعد آپ کی عبادت اور ذکر الہی کی کیفیت پانی کی مچھلی کی سی تھی۔آپ دن رات انتھک دعائیں اور ذکر الہی کرنے والی اور تقویٰ اور طہارت کا بہترین اسوہ تھیں۔رات کو بارہ ایک بجے کے بعد آپ بیدار ہو جاتیں اور صبح تک عبادت الہی میں مشغول رہتیں۔بسا اوقات رقت سے زار زار رو تیں اور ہچکیاں بندھ جاتیں۔ساتھ ہی رسول کریم صلی