محسنات — Page 20
20 کرتی تھیں کہ میری تو یہ حالت ہے کہ بستر پر کروٹ بدلتی ہوں تو ہر کروٹ پر احباب جماعت کے لئے دعا کرتی ہوں۔“ مصباح اگست 1989 ، صفحہ 12-11) حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ روحانی بادشاہ کی لخت جگر تھیں اور اللہ تعالیٰ نے ظاہری شان و شوکت کے لحاظ سے بھی نواب کا لقب عطا فر مایا اور دینی اور دنیاوی لحاظ سے اُس زمانے کی ملکہ کا یہ عالم کہ خادمانہ طور پر جماعت کے اور خاندان کے تمام افراد کے لئے شب و روز دُعائیں کیں۔نمازوں میں رو رو کر اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ دُعائیں کرنے والا وجود جماعت احمدیہ کی تمام خواتین کے لئے نمونہ تھا۔بلکہ دنیا کی تمام عورتوں کے لئے بھی۔آپ چار سال کی تھیں جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب (جن کی رہائش دار مسیح کے ایک حصہ میں تھی ) کی بیوی جن کو والو پانی جی کہتی تھیں ان کو کہا ہوا تھا کہ مجھے تہجد کے لئے اُٹھا دیا کریں۔بعض اوقات بچہ ہونے کی وجہ سے نہ اُٹھا جاتا اور مولویانی جی اُٹھاتی جاتیں۔حضرت مسیح موعود کبھی دیکھ لیتے تو فرماتے ”چلو نہ اُٹھاؤ لیٹے ہی لیٹے تسبیح وتحمید پڑھ لو۔“ (سيرة وسوانح نواب مبار که بیگم صاحبه صفحه 97) حضرت صاحبزادی نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ: حضرت صاحبزادی نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ دختر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق آپ کی صاحبزادی محترمہ فوزیہ شمیم صاحبہ رقم طراز ہیں :- خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد محبت تھی۔ایک دفعہ میں نے کہہ دیا کہ آج کل لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بھی حد سے متجاوز کر دیا ہے۔