محسنات — Page 169
169 کرتے۔جاتے تو مولویوں کے کہنے پر لڑ کے ان پر پتھر مارتے اور اساتذہ بھی سختی ہر قسم کے حربے آزمائے گئے تمام ظلم روا ر کھے گئے مگر قریشی محمود صاحب ثابت قدم رہے۔۔ایک دن ایک دوست کو ملنے گئے۔چودہ (14) سالہ بیٹا بھی ساتھ تھا واپسی پر تین آدمیوں نے اچانک گلی سے نکل کر آپ پر فائر کر کے (قربان) کر دیا۔میری بچیوں کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے والد نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔پہلی احمدی شهید خاتون: حضور نے ان دردناک واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ مکرمہ رخسانہ طارق صاحبہ جون 1986ء کو عید کے دن (قربان راہِ مولا) ہوئیں۔رُخسانہ نے عید کی نماز پر جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔طارق کے بڑے بھائی نے جو غیر احمدی تھا مخالفت کی اور ڈانٹ کر منع کر دیا۔وہ طارق سے کہنے لگی کہ ہم ربوہ چلے جاتے ہیں۔یہ پابندی اُس پر بہت گراں تھی۔پھر وہ پرانے کپڑوں میں عید کی نماز پڑھنے چلی گئی۔حالانکہ شادی کے بعد یہ اُس کی پہلی عید تھی۔عید کی نماز میں وہ بہت روئی اور واپسی میں آتے ہوئے وہ بہت خوش تھی۔سب کے لئے ناشتہ تیار کیا۔اُس کے خاوند بتاتے ہیں کہ میں حیران تھا کہ آج اتنی خوش کیوں ہے۔وہ گھر میں سب کو خوشی خوشی ملی۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ اُس کے آخری لمحات ہیں۔طارق کا بڑا بھائی گھر آیا۔آتے ہی گولی چلائی اور وہ ( قربان ) ہو گئی۔طارق صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اکثر کہا کرتی تھیں کہ میں جب اللہ کو پیاری ہو جاؤں تو مجھے پہاڑوں کے قریب دفن کر دینا۔چنانچہ ربوہ کے پہاڑوں کے دامن