حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 86
میباره دیده AY 86 دسمبر ۱۹۹۳ء امہ الباری نافر خطیبیوں کی دعا جستج نہ ہوتی اور مجھے فکر ہوتا کہ رات کو کچھے آرام کرلے صبح سے پھر گھر کے اور لجنہ کے کام شروع ہو جائیں گے۔لکھنے جماعت احمدیہ صلح کر اچھا کے سالانہ جلسہ منعقدہ پڑھنے کا کام تو وہ میرے ہی کمرے میں کہتی تھی۔میں گلشن مهران ۱۹۸۹ ء کے لئے بیشر کی وادر صاحبہ کی تقریر دیکھتا رہتا کہ ابھی موڈ طاری ہے۔روکنے سے رکے گی رکھی گئی۔کراچی کی جماعت کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا نہیں، مگر جب ڈرائینگ روم میں ہوتی تو اُٹھ اُٹھ کر کہ ایک خاتون کی تقریہ مردوں میں بھی سنوائی جائے۔بشری دیکھنا کہ سجدے میں بلک بلک کر رو رو کر دعائیں تمام تر تجر بہے اور اعتماد کے باوجود فطری طور پر کچھ گھر ہی کر رہی ہوتی۔طور تھی۔اُس نے اللہ پاک سے استعانت طلب کی اور بزرگوں کو دعا کے لئے کہا خود بھی بڑے درد والحاج سے دُنا کرتی رہی۔ہم بھی اُس کے لئے دعا کرتے رہے۔اللہ پاک نے اس صاحب قلم اللہ پاک کا احسان ہے کہ گیشری کو یہ اعزاز حاصل کی دعاؤں کو سنا اور اس کی جمعیت خاطر کا سامان اس تھا کہ اُس کے پاس پیارے حضور ایدہ الودود کے طرح فرمایا کہ اُس نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مولانا عطا کر وہ کئی قلم موجود تھے۔یہ قابل رشک ایوارڈ بجاطور عبد المالک خانصاحب اور محترم مولانا سلطان محمود انور پر یشتری کو صاحب قلم ثابت کرتا ہے۔اور یہ اللہ تعالی صاحب اور دیگر کچھ بزرگ تشریف فرما ہیں اور بشری کے کا فضل ہے جس کو بچا ہے عطا فرماتا ہے۔لئے دعا کر رہے ہیں اور دکانیں پڑھ پڑھ کر بشری کو پھونک رہے ہیں۔خواب میں دیکھے گئے دونوں بزرگ گھوڑے پر سوار فن خطابت میں طاق ہیں۔مشری کو یقین ہو گیا اللہ ۱۹۸۶ء کی بات ہو گی احمد یہ ہال میں سیرۃ النبی پاک غیر معمولی تائید و نصرت فرمائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ ہو رہا تھا ہال بھرا ہوا تھا۔دعا میں شعف بشری سے پہلے میری تقریر تھی۔بشری نے کہا جتنی زیر تم تقریر کردگی میں دُعا کہتی یہ ہوں گی پھر میری تقریر کے داور صاحب نے بتایا کہ بہتری کی طبیعت ٹھیک دوران تم دعا کرتی رہنا۔یہ خوش گوارہ عہد نبھایا۔بیشتر کی