حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 85
مصباح زاده تھی 85 حوری کی وفات سے تقریباً دو ماہ قبل یکیں نے خواب میں دیکھا کہ میرا دایاں ہاتھ کٹ گیا ہے اور مجھے کئی دفعہ آواز آتی تھی وہ امر ہو گئی، طرح طرح کے وہم آئے مگر توری کی طرف دھیان بھی نہیں گیا کہ وہ فوت ہو جائے گی۔اک دوست جواں سال ، جواں عریم کی رحلت لاریب اسی بات کا کہتی ہے تقاضا پل بھر کا بھروسہ نہ کریں صبح وہ ایسا ہم کیا جانے کہ آجائے گا کس وقت بلاوا ١٩٩٣ " حضرت امام جماعت احمدیہ التابع فرماتے ہیں :- الله تعالی بیان فرماتا ہے (-) اے سکون کے متلاشیو بشنو ، تمہیں کہیں طمانیت نہیں ملے گی سوائے اس کے کہ تم اپنے رب کے ذکر میں محو ہو بھاؤ اور اللہ کی یاد شروع کرو۔اب اللہ کی یاد سے کیسے طمانیت حاصل ہو۔اس مضمون کو خدا تعالیٰ نے مختلف رنگ میں بیا نے فرمایا ہے (-) اس کی بہت تفصیل ملتی ہے کہ اس سے مراد محض ایک ایسا ذکر نہیں ہے جس کے نتیجہ میں انسان منہ سے اللہ اللہ کہنا شروع کر دے اور پھر سمجھے کہ اس کا دل تسکین پا جائے گا اور طمانیت حاصل کر لے گار بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا فلسفہ کار فرما ہے (-) ذکر الہی اور عبادت دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔جب تک انسان خدا کا عہد نہ بنے اس وقت تک اسے ذکر الہی کی توفیق نہیں مل سکتی۔ان دونوں چیزوں کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔اس (ہ) میں وہ ذکر الہی مراد ہے جو "عبد" کا ذکر ہو۔یعنی سند کے ان بندوں کا ذکر ہو جن کو خدا تعالٰی اپنی اصطلاح میں عید شمار کرتا ہے جو کسی کو شمار کرتا ہے۔وہ کون ہیں کہ جب وہ اس مقام پر فائز ہو جاتے ہیں تو پھر ان کا ذکر الہی کرنا ان کے لئے موجب تسکین بن جاتا ہے ان کے متعلق ( ) فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب یہ مر رہے ہوتے ہیں تو بستر مرگ پر ان کو یہ آواز سنائی دیتی ہے )) کہ اے میرے بندو ! تم اس دنیا میں مجھ سے راضی مہور کر رہے۔نہیں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ جب تم مجھ سے راضی ہو گئے تھے تو تم مرضیہ بھی بن گئے۔یعنی میں بھی تم سے راضی ہو گیا اور اسی کا نام عبودیت ہے۔فرمایا اس حالت کے بعد ہم تمہیں یہ خوش خبری دینے ہیں (-) کہ اب تم حق رکھتے ہو کہ میرے بندے کہلاؤ۔پس میرے بندوں کی صف میں داخل ہو جاؤ (-) جو کچھ میرے بندوں کا ہے وہ میرا ہے اور جو میرا ہے وہ میرے بندوں کا ہے (-) پس میری حقیقیں تمہاری جنتیں ہو گئیں۔د از خطیه فرموده ۱۲۶/ نومبر ۶۱۹۸۲ )