حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 87 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 87

مصباح زیوه AL 87 دسمبر ۱۹۹۳ء تقریہ کہتی رہی۔سامعات ساکت مسحور اور خاکسار دعا کا لکھا ہوا شعر ہے a میں مصروف رہی۔تقریر کے دوران کبھی کبھی بہتری کی یا رب یہی دُعا ہے کہ انجام ہو بخیر او از شدت محبت سے بھرا جاتی۔کبھی وہ اس طرح آنکھ ہیں ہر وقت عافیت رہے ہر کام ہو بخیر بند کر لیتی جیسے سرتا پا ڈوب گئی ہو۔تقریر کے بعد اس نے بنایا آج عجیب واقعہ ہوا۔اس کے ہاتھ ٹھنڈے چہرہ سجا سجایا گھر کرتے اور جسم پر کیاکیا ہٹ تھی۔کچھ خوف زدہ بھی تھی۔ایران میں قیام کا زمانہ کشائش کا زمانہ تھا گھر اُس نے بتایا کہ جب کیمیں تقریر کر رہی تھی تو مجھے بے حد خوبصورتی سے سجایا۔داؤد صاحب کے ساتھ بہت ایسے محسوس ہونے لگا کہ ہال کے دروازے بڑے ہو رہے سے ملکوں کی سیر کی اور جگہ جگہ سے نوادر جمع کئے۔بشری ہیں اتنے بڑے جیسے قلعوں وغیرہ میں ہاتھی سواروں اور داد و صاحب دونوں کا ذوق بہت نفیس ہے۔مگر کے لئے ہوتے ہیں اور دروازے سے گھوڑے پر سوار جب اچانک بھرا بھرایا گھر چھوڑنا پڑا تو اللہ پاک سے پیارے آقا حضرت سیدنا امام جماعت احمدیه الرار و ایده دعا کی کہ یہ گھر یاد نہ آیا کرے سب درو دیوار پر ایک اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہال میں تشریف لا رہے ہیں۔نظر ڈالی اور گھر چھوڑ دیا۔پھر کراچی آکر تنکا تنکا جمع یہ واقعی عجیب بات تھی اس لئے بشری اور میں خاموش کر کے آشیانہ بنایا۔اور جبہ یہ آشیانہ بھی مثالی طویر ہی رہے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کیا۔پر سج گیا تو اپنا سجا سجا یا گھر چھوڑ کر اپنے آخری ٹھکانے مولا کا کریم کی طرف پرواز کر گئی رہے نام اللہ کا۔واشنگ مشین بشری کا تکیہ کلام تھا یہ میرے مولا کا کرم ہے۔اور بے حد شکر کرتی۔ایک دفعہ ہم ایک ساتھ سیرت کے داود بھائی صاحب پرانے سامان کی دکان کے پاس جلسے میں جا رہے تھے۔سڑک کے دونوں طرف عالی شان سے گزر رہے تھے کہ ایک واشنگ مشین دیکھ کر ٹھنڈک رہائشی بنکے تھے۔پھر انمند سے محل نما گھروں کی سچائیں گئے۔وہی ماڈل تھا جو ایران میں بشری استعمال کرتی تھی۔دیکھے کہ کچھ رشک سے ذکر کیا۔شرکا نے کہا " مولا کا کرم اور وہیں رہ گئی تھی۔داؤد بھائی کا دل چاہا، میرانی۔ہے اس نے ہمیں اتنی خوبصورتیاں دکھا دیں۔کئی تو یہ ہے تو کیا مرمت کروالیں گے۔بشری دیکھ کر بہت خوش ہوگی قیمت پوچھی تو پانچ ہزار۔اگر چہ مشین کی قیمت کے مقابلے میں پانچ ہزار میں تقریباً مفت لگی مگر پانچ ہزار موجود نہیں تھے۔پھر کئی دفعہ ایسا ہوا سب دیکھ بھی نہیں سکتے " انجام بخیر بشری کی آٹو گراف بک میں حضرت سیدہ نواب کہ ادھر سے گزر ہوتا بشین پڑی دیکھتے اور گھر آ کر میاد که بیگم صاحبہ کے دست مبارک سے راگست ۱۹۶۳ء بشری کو بتاتے " بوشو وہ مشین ابھی تک نہیں پکی۔