حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 64
مصباح دیوه ۶۴ E4 و نمبر ۱۹۹۳ء اس دن سے میں بہت خوش ہوں کہ اب ہم ساتھ رہیں گے۔تھی اور کہتی تھی " اللہ ہی سہارا ہے۔اللہ ہی سہارا ہے" اس کے بعد لکھتی ہے۔سب رشتہ داروں کو سلام۔گویا دونوں بیٹریا کو اپنا ہمدرد پر خلوص دوست اور امان کے پیٹے میں میری جگہ ٹھس جائیں؟ یہ اس کا داری سہارا کھتی تھی۔اپنے دیور محمود قریشی صاحب کے بارہ ہیں سے شدید پیار کا اظہار ہوتا تھا۔یونیورسٹی سے آئی تو اکثر کہا کرتی محمود میں تو بزرگوں کا رنگ پایا جاتا ہے۔کتا نہیں رکھے ہیں اماں جی کی گود میں سر رکھ کر پیٹ میں منہ عزیزم مشہور اور بشیر تو اس کے دیوانے تھے جیسے سگی گھسا کہ کافی دیر لیٹی رہتی اور وہ اس کے سر پر ہاتھے بہنوں سے الفت کا اظہار کیا جاتا ہے کرتے تھے۔اپنی نہیں پھیرتی جاتیں اور ماں صدقے۔ماں صدقے اٹھ منہ ہاتھے ایسہ اور بشری میں کوئی فرق نہ کرتے۔ابھی پچھلے رمضانی دھو اور کھانا کھا :" سونے وقت بڑی باقائدگی کے ساتھ المبارک کی بات ہے۔خطیہ کے بعد میں اس کی سانس آیا اس وقت تک جاگتی رہتیں جب تک بہتری پڑھتی رہتی۔جب جیبیہ سے ملی تو رو رہی تھیں۔یکی گلے ملی تو ہچکیاں پڑھ چکتی تو اسے روزانہ کہتی جاؤ اب ہاتھ روم جاؤ۔بندھ گئی۔میں نے پوچھا خیر تو ہے کیا ہوا تو بولیں میرا اب دودھ پی لو سجود وہ کبھی نہ پیتی۔دودی میر اور دی ، اللہ اس کا گھر اجڑنے سے بچالے، اللہ خوابوں کی بات چل نکلی تو اپنے بارے میں بھی اس کا گھرا ہونے سے بچالے میرے پاؤں تلے سے زمین بتا دوں کہ جب بھی ہم پر یشان ہوتے وہ خواب میں دیکھے نکل گئی۔اللہ خیر کرے کیا تھا۔بولی میری بچھی، میری لیتی تھی۔اور پھر پوچھتی کہ کیا بات ہے۔اور بہت پریشان بچھی۔۔۔۔بہت بیمار ہے " اور پھر رونے لگیں ہوتی۔تسلی دینی سمجھاتی جیسے کہ وہ پیڑ کی ہے اور ہم چھوٹے۔دلاسہ دیا کہ اللہ خیر کرے گا فکر نہ کریں۔دعا کہیں بہتری یکیں تو اس کی چھنی ہونے کے ساتھ دوست بھی تھی کو فون کیا تو کہنے لگی کوئی نئی بات تو نہیں وہی ہماری اور رازدان بھی۔اس نے کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا۔اس جو بار بار ہوتی ہے پھر ہو گئی ہے۔یکمی نے کہا اب تو پریشن کی وفات کے بعد ایک خاتون جو بشری کے سسرال سے کرواہی کو خون کی کمی زیادہ ہو گئی تو مشکل ہو جائے گی۔قریبی تعلق رکھتی ہے تعزیت کے لئے آئی۔اسے علم ہوا کہ اسے جیسے خبر تھی۔اتنی بہادر نگہ اپریشن کے نام سے اس میری بھتیجی عزیزہ۔ملہ میری کی دیورانی ہے تو بڑی حیران کی روح فنا ہوتی تھی۔ہم سب جو اس کو مجبور کرتے تھے ہوئی۔کہنے لگی۔آپ نے پہلے شہری کا رشتہ دیا۔پھر دوسرا کہ اپریشن کمر والو۔آج اس کی روح کے سامنے شرمندہ اور بھی اسی گھر میں کر دیا۔نہیں نے کہا اس میں کیا قباحت ہے چور بنے بیٹھے ہیں۔پی بری حوری نہیں معاف کر دو۔بشری نے کبھی اپنے سسرال کی کوئی بات ہی نہیں کی بشری کی وفات کے بعد بھائی صاحب (بیگ صاحب ) ہم تو ان کے گھر کو جنت ہی سمجھتے ہیں۔تو وہ پھر خاموش فرمانے لگے مجھے افسوس ہے کہیں بیگم پر غصہ کہتا کہ بیٹری ہی رہی۔اس کی چھوٹی دیورانیاں عزیزہ تقبیلہ اور عزیزہ سے اتنی لمبی لمبی گفتگو فون پر نہ کیا کرو۔حالانکہ ان کے ریلہ کا ر دنا نہیں دیکھا جاتا تھا۔ایسے لگتا تھا کہ ان لئے بشری سے باتیں کرنا ایک غذا تھی بلکہ دوا تھی۔اس کی سگی بہنے جدا ہوئی ہو۔اس کی وفات پر تقبیلہ موتی جاتی سے باتیں کر کے ان میں قوت آجاتی تھی۔واقعی بہتر کی اپنی