حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 63
مصباح دیوه 63 سمبر ۱۹۹۳د خراج تحسین پیش کیا۔اس پر کتنے ہی لوگوں نے اس شرط کی پیدائش کے بعد جب وہ بھابھی جان سے ملنے جانیں پر فورا مر جانے کی خواہش کی کہ اگر حضور ہمارے لئے اس تو بشر کی تورا جاوید کو سنبھال لینی اور کہتی کہ اب آپ سے آدھے الفاظ بھی فرما دیں۔سوجائیں آپ بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہیں بھی اس میری بھتیجی عزیزه شکیلہ ظاہر نے پیاری بشری کے کو دیکھ لوں گی۔وہ اطمینان سے سو جائیں اور تازہ دم گی۔نماز جنازہ میں شمولیت کے بعد جب گھر آئی تو اپنی چھوٹی ہو کہ گھر ٹوٹتیں۔نہ صرف یہ کہ خاندانی تعلق کی بناء پر وہ بہن مریم کو گھر پر اور ہال کا منظر بیان کیا۔اور اس کے سب کی نہیں بلکہ وہ جس سے تعلق رکھتی اس سے روحانی چہرے پر اطمینان کے آثار تھے۔مریم نے گفتگو کے دوران تعلق بھی رکھتی۔مریم بتاتی ہیں جب وہ ایران میں تقلیلی اپنے کو ہے کا حال بیان کیا تو شکیلہ کہنے لگی کہ بشری باجی اور وہ کبھی اپنے بیٹے پر سختی کریمیں اور پیٹ و مینی تو کی وفات کا مجھے تو بالکل افسوس نہیں۔اس کا انجام انتہائی بہتری کا فون آجاتا۔مریم خالہ آج آپ نے پھر جاوید کو بخیر ہوا۔اگر مجھے ایسا انجام ملے تو ہمیں فورا مر جاؤں۔ایسی ہارا۔وہ پوچھتیں تمہیں کیسے علم ہوا۔بشر کی جواب دیتی خوبصورت شاندار موت ہر کسی کا مقدر نہیں ہو سکتی۔کہ مکی نے خواب میں دیکھتا ہے۔اسی طرح وہ فرماتی بہن بھائیوں سے عشق کی حد تک محبت کا اندازہ ہیں کہ وہ نہ صرف سچی خوا ہیں دیکھتی بلکہ تعبیر الیڈ یا کا اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے حصے کی ہر چیز اس بہے یا ملک بھی اس کو حاصل تھا۔اس کی ایک سچی خواب سجو بھائی کی پلیٹ میں ڈال دیتی جس کی وہ پسندیدہ چیزیں ہوتی۔اس نے اپنی زندگی کے بارہ میں ۲۳ جنوری ۱۹۷۳ء تہ مثل نصرت نے بتایا کہ وہ اپنے حصے کی مچھلی مجھے دے میں ایران میں دیکھی۔جس کو پڑھ کر یکی سخت پریشان دیتی کہ تم کھا تو میرا دل نہیں چاہ رہا۔گوشت کی بوٹی بھائی ہو گئی۔مگر بعد میں وہ بھول گئی۔آج اس کے اس خط کی پلیٹ میں ڈال دیتی کہ میرا موڈ نہیں ، میرے دانت ہیں سے لیکن وہ حصہ یہاں نقل کر رہی ہوں :۔پھنس جاتی ہے۔اپنے حصے کا فروٹ دوسری بہنوں کو یہاں اباجی راپنے دادا جان کو وہ پیار سے اباجی سے دے دیتی۔کہتی تھی کے مزار پہ کوئی گیا کہ نہیں ، لیکں نے انہیں بہن بھائیوں میں بڑی ہونے کے ناطے اس نے ان پھر خواب میں دیکھا ہے۔بہت اچھے ہو رہے ہیں۔میں کہتی کی ترجیت کا یہی خیال رکھا۔سرزنش بھی کہتی بسختی بھی کرتی ہوں کہ ابا جی اب نہیں نہیں جانے دوں گی۔یا تو آپ میرے مگر یہ سب بھی محبت کے کرشمے ہی تو تھے کہ دوسروں کی ساتھ رہیں نہیں تو میں آپ کے ساتھ رہتی ہوں تو مان اصلاح کی طرف تربیت کی طرف توجہ دی جائے۔کم سے کم جاتے ہیں کہ اچھا تم میرے ساتھ رہو۔لیکن بیٹا میرے وسائل کے دور میں گزارے ہوئے دن اس کی شخصیت کو پاس بڑا گھر نہیں ہے۔تو نہیں کہتی ہوں ابا جی مجھے کچھ نہیں نکھار گئے۔آسائش کے دور میں بھی سلیقہ شعاری اس کا چاہیے۔بس ہم چھوٹی سی جھونپڑی یا گھر بنا لیں گے اور بنائیں طرہ امتیاز رہی۔مل کر رہیں گے۔ہمیں آپ سے کچھ بھی نہیں مانگوں گی۔بیس اب ان کی خالہ مریم بتاتی ہیں کہ ان کے پہلے بیٹے جاوید ہم دونوں اکٹھے رہیں گے اور یکیں ابا جی سے لیٹ جاتی ہوں۔