حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 65 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 65

مصباح ربوه ۶۵ 65 ومبر ۱۹۹۳ء والدہ کے لئے کیا تھی۔وہ کہتی ہیں کہ میری زبان کسی کی میں انہوں نے بھی بہت محنت کی بہت قربانی دی۔انہوں سمجھ میں نہیں آتی تھی۔بیگ صاحب سے کسی مسئلہ نے اس کی حقیقی معنوں میں قدر کی۔اس کی شخصیت کو چنا بات کرنی ہوتی تو میں بشری سے کہلواتی - کسی بچے کو بخشی۔آپس میں بے انتہا ہم آہنگی تھی۔دونوں ایک کوئی نصیحت کرنی ہوتی تو میں بشری سے کہتی۔کسی بچے دوسرے کی ضروریات کا بے انتہا خیال رکھتے۔اگر بشری کو ڈانٹنا ہوتا تو میں بیٹری کو کہتی۔اس کی زبان میں رات کے چار بجے تک کھتی۔می ہو پھر عبادت سے تاریخ تاثیر رکھتی۔جو بات میں نہ سمجھ سکوں وہ احسن سنگ میں سمجھا ہو کر سوتی تو ان کے شوہر نے ان کو صبح کبھی نہیں جگایا۔دینی۔اب میں کسی سے بات کر سکوں گی۔کس طرح اپنا ماقی خود ہی بچوں کا ناشتہ تیارہ کر کے انہیں اٹھاتے کھاتے۔الضمیر سمجھا سکوں گی۔میرا سہارا تو اللہ تعالیٰ ہی تھا اور اور سکول بھجواتے۔اس کی وفات سے کچھ قریہ قبیل نصرت ہے اور ہو گا مگر وہ ایک واسطہ تھی۔جس کے ذریعہ میں ان کے ہاں گئی اور رات ٹھہر گئی۔صبح اس کو بھی کچھ نہیں جی رہی تھی۔یہ ان کی انکساری ہے۔ہنٹری نے جو کچھ پایا، کرنے دیا اور اپنی ڈیوٹی ادا کی۔عز منیزیم ما کہتا ہے سیکھا وہ والدہ کی تربیت ہی تو تھی۔ہاں ہر بچے نے اپنے ہمارے ہاں دو بندوں کو زبر دستی کھلانا پڑتا ہے۔ایک طرف کے مطابق سیکھا۔اور سیرت کے موضوع نے اس کی طوبی کو دوسرے امی کو جو صرف اہا ہی کھلا سکتے ہیں۔سیرت کو بھی نکھا نہ دیا۔نیک فطرت - والدین کی تربیت مشرف کے مشن میں ہوں نے تجزیہ کا حصہ لیا۔اور احمد بیت کی برکات ذیلی تنظیموں کے ذریعے اس میں دورے سے دفع پر پہنچانا ، لا، خندہ پیشانی سے محبت اس طرح رچ بس گئی تھیں کہ وہ ایک پلتا پھرتا نمونہ تھی۔سے اس کی جماعت سرگرمیوں میں ساتھ دیا۔شعبہ تاوت سیرت کے ایک جلسہ میں اس کی تقریریشن کمہ ایک غیرانہ کی ابتدا سے ہے کہ آج تک ہورنے ہے دنیا محنت کی۔جماعت نے بڑے شوق سے فرمائش کی کہ میں اس خاتون اپنے کام کو پس پشت ڈال کر بلند کی۔تاہمت کے کام کی والدہ سے ملنا چا ہتی ہوں۔ان کو مبارک باد دینا چاہتی کی داغ بیل ڈالنے والی پس منظر میں چلی گئی کہ لکھنے ہوں۔واقعی اس کی والت لائق صد مبارک باد ہیں کہ ان کی لکھانے کا کام اسی تند ہی سے کہتی رہیں۔اکثر کی ہے۔کوکھ سے بشری نے جنم لیا۔اس کی وفات پر ان کا صبر کریں سوکھنا ہیں ہو جائیں۔نہیں کہتی تم تو دیوانی ہو دیکھ کر یقین آجاتا ہے کہ واقعی وہ بشری بی کی والدہ وہ دیوانی ہی تھی۔اپنے مشن کی تکمیل کی خاطر سے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے والدین کو صبہ کا اجمہ تو زندگی میں ہی عطا عافی کا یہاں یہ کام نہیں وہ لاکھور بھی بے فائدہ ہیں فرما دیا ہے پھر بھی بشری تقا منے کے تحت دل ناصبور مقصود میرا پورا ہو گزر جائیں مجھے دیوانے دو کی بے قراریاں کبھی کبھی تو تڑپا ہی جاتی ہیں۔اللہ تعالٰی شعیہ اشناست کی دوریو کیوں سنتا پارت ناصر اور پیاری توری نے وہ ا نا رہ کر دکھایا کہ ان شعبہ اشاعت الاغا من حمایت بشری کی شخصیت جو کچھ آج بنیا ہے اس میں ان میں اس سلطان العلم کے صدقے تعارف و جینا ہے۔اللہ تعالی بیان کے شوہر کا برابر کا ہاتھتے ہے۔اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے باری کو نظر بد سے بچائے فضل فرمائے۔