حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 62
مصباح ریون لان و نمبر ۱۹۹۳ء بشری کے بیٹے ہیں۔طوبی کا خیال تو دل سے محو ہی ذرا ذرا سا کھانا جو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اس کو خود کھاتی نہیں ہوتا۔تا کہ ضائع نہ ہو۔بچوں کو بھی یہی عادت ڈالی کہ جتنا کھانا وضعداری اور رکھ رکھاؤ میں اپنی ہمت سے بڑھ ہے اتنا ہی والو۔کو بھی عید الفطر پر اپنے چاہنے والوں کو ضرور یاد اپنے بچوں کی تربیت کے لئے اس کا عملی نمونہ ہیں رکھتی حتی المقدور سب کے گھروں پر عید ملنے چند بہت کافی ہے یوں بھی انہیں سمجھانے کا کوئی موقع ہاتھے منٹ کے لئے ہی سہی ضرور جاتی۔آخری عیدہ پر شومی قسمت سے جانے نہ دیتی۔ان سے کہتی کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔کہ ہم گھر پر نہ ملے۔ہم بھی عید ملنے نکلے ہوئے تھے۔آگے ہمیں بہت کام کرتا ہے۔گھر یلو مصروفیات کو اعلیٰ مقاصد آگے ہم تھے اور پیچھے پیچھے وہ۔ملاقات نہ ہو سکی۔البتہ میں حائل نہ ہونا چاہیے۔شیر خرما کا حصہ ضرور پہنچ گیا۔محبت کا دوسرا نام حوری ہے۔اپنے والد صاحب صبر و شکر کا مجسمہ تھی۔صبر کے دنوں میں مثالی سے محبت دمشق کے درجہ کو پہنچی ہوئی تھی۔اگر کبھی بھا بھی صبر کھاتی۔کسی کو علم بھی نہ ہوتا کہ کیا گزر رہی ہے۔اور جان گھریلو معاملات کے لئے وقت نہ نکال سکنے پر توجہ جب شکر کا مقام آتا تو معلوم ہوتا کہ سب کو ہی یاد دلائیں تو شہری کہتی امی میرے معصوم ابا جان کو کچھ نہ کہا رکھتی۔سب کچھ بانٹنے پیڈ نکل جاتی۔کریں۔آپ کو نہیں معلوم وہ کیا چیز ہیں۔ان کے ابا جان تو کل بھی مثالی تھا۔کبھی پریشانی کا اظہار نہ محترم بیگ صاحب نے ایک بار اپنے گھر میں ایک بھی محفل کرتی رایسے دنوں میں یوں سہنستی گویا کچھ کھو یا عوامل گیا میں ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے بعد دیگرے چار بیٹیاں دیں۔ہے۔بہتی میرا مولا جلد فضل کرے گا۔جس نے پہلے فضل ہر بیٹی کی پیدائش پر فطری طور پر خواہش پیدا ہوئی کہ اگر کیا تھا اب بھی کرے گا۔دیر سویر ہو ہی جاتی ہے آزمائش اللہ تعالی بیٹا دیتا تو میرا باز و بنتا۔میری مد کہتا اور میری کے لئے میرا مولا مجھے پورا اتارے گا۔ذمہ داریاں SHARE کرتا۔مگر اب میں سمجھ گیا ہوں کہ باپ سلیقہ شعاری میں بھی وہ ایک مثال تھی۔چھوٹے کا نام صرف بیٹے سے ہی روشن نہیں ہوتا بلکہ بیٹیاں چھوٹے ٹکڑوں سے کترنوں سے خالی اوقات میں رجب دل بھی خاندان کے نام کو روشن کرتی ہیں۔میری بشری میری بہ یار ہوتا اور ہاتھ یہ کار ان کو جوڑ کر خوبصورت رلیاں ہمنوا۔مددگار، مشیر اور میرے لئے قوت ہے۔اس کی وفات بنائی۔پرانے کپڑوں کو نئے انداز میں بدل دیتی۔ساڑھیوں کے کے بعد یہ حقیقت پوری دنیا میں ایک گونج بن کر ابھری کہ سوٹ بتائی۔کوئی چیز ضائع نہ کرتی۔حضور نے باپ بیٹی کو ایک دوسرے سے مماثل قرار دیا۔شادیوں میں کھانا ضائع کرنے والوں پر اسے بے بعد یہ کیسی موت تھی کہ جس پر چوری کی وفات کے تیرے غصہ آتا۔اکثر کہتی کہ ایران کی بنیا ہی کی ذمہ داری اس بات دن جب عام لوگ سوئم کے لئے جمع ہوتے ہیں سارا کراچی پر بھی ہے کہ وہاں کے لوگ کھانا بہت ضائع کرتے تھے۔ان کے گھر پر مبارک باد دینے اُمنڈ آیا۔اور خاندان کا ہر فرد بچا ہوا کھانا کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیتے۔گھر میں فتر کے جذبات سے سرشار ہو گیا کہ پیارے آقا نے جو اس کو